4 جنوری 2014 - 20:30
مفتی اعظم اہل سنت: عراقی پارلیمان میں القاعدہ کے اراکین کا مقابلہ کیا جائے

عراقی اہل سنت کے مفتی اعظم شیخ مہدی الصمیدعی نے عراقی پارلیمان کے ان اراکین کو القاعدہ کے اراکین قرار دیا جو الانبار میں سرکاری افواج اور قبائل کی کاروائی کی مخالفت کررہے ہیں، اور مطالبہ کیا کہ پارلیمان میں القاعدہ کا سد باب کیاجائے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایبجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مفتی اعظم نے کہا: میں بعض سیاستدانوں اور بعض ذرائع ابلاغ نے تکفیری ٹولوں کی حمایت کی ہے اور میں ان کے سلسلے میں عراقی قوم کو انتباہ کرتا ہوں کہ القاعدہ کی ذیلی شاخ "داعش" صوبہ الانبار کے ساتھ ساتھ عراقی پارلیمان میں بھی داخل ہوچکی ہے اور مجھے یقین واثق ہے کہ عراقی پارلیمان میں القاعدہ کے عناصر نے صوبہ الانبار کو اس صورت حال سے دوچار کیا ہے اور ان عناصر کا مقابلہ کرنا اور ان کا سد باب کرنا شرعی طور پر ہر مسلمان کا فرض ہے۔ ادھر العالم کے مطابق الانبار میں عراقی افواج کی کاروائی میں القاعدہ کے 65 مسلح دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں اور عراقی فوج کے آٹھ اہلکار بھی جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ العالم کے نمائندے وسام التمیمی کا کہنا تھا: وزیر اعظم المالکی نے کہا ہے کہ ایک عرب ملک دہشت گردوں کی مدد سے ایک علیحدگی پسند امارت بنانے کی سازش تیار کرچکا تھا اور یہ ملک اس ریاست کو فوری طور پر تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا تھا تاہم یہ خطرناک سازش فوجی کاروائیاں آغاز ہوتے ہی ناکام ہوگئی۔ واضح رہے کہ عراق کے پارلیمانی انتخابات قریب ہیں اور عراق کو بعض سیاستدان القاعدہ درپردہ القاعدہ کی حمایت کررہے ہیں تاکہ خطے کی عرب ریاستوں کی مالی امداد لے کر آنے والے انتخابات میں شرکت کرسکیں اور اس عمل کو عراق کے قوم پرست حلقوں میں شدید رد عمل اور مذمتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ العالم کے مطابق عراقی فوج الانبار میں اپنی کاروائیوں کو وسیع سے وسیع تر کررہی ہے اور عراقی حکام القاعدہ اور اس سے وابستہ دہشت گردوں کی مکمل سرکوبی تک کاروائی جاری رکھنے پر اصرار کررہے ہیں۔ عراق کے سیکورٹی امور کے ماہر رافد الخزاعی نے العالم کے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: صوبہ الانبار میں امن و سلامتی کے تحفظ کی ذمہ داری تمام عراقی باشندوں کے کندھوں پر ہے اور میرا خیال ہے کہ الانبار کے عوام دہشت گردوں کو بآسانی کچل سکتے ہیں کیونکہ وہ دوسروں سے بہتر جانتے ہیں کہ ان ٹولوں کا کس طرح مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭