ابنا: ممتاز امریکی کالم نویس ٹم کنگ کا مضمون نقل کیا ہے جس میں برما کے مسلمانوں کی دہشت کے آگ میں جھلس جانے اور دنیا کے حقوقِ بشر کے علمبرداروں کی پر اسرار خاموشی کی عکاسی کی گئی ہے۔
فاضل مصنف اس مضمون میں برما میں بودھوں کی مسلمان کش منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بودھوں کے بڑے راہب ‘یو وراتھو’ سٹھ سے زائد راہبوں کی سربراہی کر کے عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہا ہے۔ قید کی سزا سے رہائی پا کر اب اپنا کھویا ہوا وقار اور طاقت بحال کر کے نفرت اور فساد کا پرچار کرنے میں سرگرمِ عمل ہے۔ اس کے نفرت انگیز پیغامات سے متاثر ہوکر متعدد راہبوں نے برما میں مسلمانوں کی نسل کشی کر کے کشت و خون کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
برمی مسلمانوں کے ممتاز سیاسی رہنما ڈاکٹر صدیقی کے بقول ان راہبوں کو مسلمانوں کے خلاف کاروائیاں کرنے میں حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کررہی ہے۔
برما میں مسلمانوں کی اس حالتِ زار کا سلسلہ گذشتہ سال جولائی میں شروع ہوا جب بودھوں نے مسلمانوں پر ایک بدھ عورت کی عصمت دری اورقتل کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے اس واقعے کی تشہیر آن لائن میڈیا اور پریس کے ذریعے کر کے لوگوں کے جذبات برانگیختہ کئے۔ جس کے نتیجے میں اس واقعے کے صرف ایک دن بعد برما کے مختلف علاقوں سے مسلمانوں کو گاڑیوں سے اتار کر دن دھاڑے قتل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔
اس عورت کے قتل کے پاداش میں تین آدمیوں کو گرفتار کیا گیا جو زیر حراست ہی ہلاک کئے گئے۔ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ اس واقعے کا مسلمانوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ یہ صرف مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کا ایک بہانہ تھا۔
مذکورہ واقعے کے پسِ منظر میں سینکڑوں مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا گیا۔ ہزاروں بے گھر ہوئے جو اب کیمپوں میں مہاجروں جیسی زندگیاں بسر کررہے ہیں جہاں بیماریاں عام ہیں جبکہ غذا اور پناہ کی عدمِ دستیابی ہے۔
ایک طرف برمی مسلمان بیہمانہ مظالم اور حکومتی دہشتگردی کی آگ میں جھلس رہے ہیں اور دوسری طرف ہیلری کلنٹن اور اونگ سان سوکیو برما کے ساتھ تجارتی معاہدے طے کر کے ان ستم رسیدہ لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کررہے ہیں۔
برمی مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوزسلوک روا رکھنے پر ٹم کنگ رقمطراز ہیں کہ اب دنیا کے دوسرے ممالک بھی برمی مسلمانوں کو رد کر کے انہیں انسان تک سمجھ نہیں رہے ہیں۔ ان کا اب کوئی ٹھکانہ ہی نہیں ہے۔ برما میں ان کے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ بین الاقوامی حقوقِ بشر تنظیم ان کی طرف متوجہ نہیں ہورہی ہے۔ حقوقِ بشر کی پامالی نقطۂ عروج پر ہے۔
موصوف کالم نویس مزید لکھتے ہیں کہ برما میں یووراتھو نے ۹۶۹ کی ملک گیر تحریک اٹھا کر مسلم اقلیت کو بدھ اکثریت کیلئے بڑا خطرہ قرار دینے کی سرتوڑ کوششیں کیں۔
برما میں راہبوں نے بودھوں کو مسلمانوں کے ساتھ قطع تعلقات کرنے کا حکم دیا ہے اور اپنے خطابات میں زہر افشانی کر کے پورے برما میں بدھ مسلم فسادات برپا کرنے کیلئے ہمہ تن کوشاں ہیں۔
یووراتھوں کی تحریک کو نازی تحریک سے تعبیر کرتے ہوئے ٹم کنگ رقمطراز ہیں کہ یووراتھوں نے باقی راہبوں کو حکم دیا ہے کہ وہ جمہوریت اور سیاست کے موضوعات پر بحث و مباحثہ کرنے سے پرہیز کریں۔ اس وقت 2500 راہب اس کے تحت کام کررہے ہیں جو اس کے فرمودات کے خلاف زبان کھولنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔
بہر حال برما میں مسلمانوں کو قتل عام گذشتہ ڈیڑھ سال سے جاری و ساری ہے۔ مسلمانوں کے خونِ ناحق سے برمی راہبوں کے ہاتھ رنگین ہے۔ انہوں نے اپنی خانقاہوں کو اسلحی ذخائر میں تبدیل کر کے مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ جس کے نتیجے میں سینکڑوں مسلمان ہلاک اور ایک سو چالیس ہزار بے گھر ہوکر جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
.......
/169