28 دسمبر 2013 - 20:30
امریکہ کی جانب سے نئی پابندیوں کی صورت میں جنیوا سمجھوتے پر عمل نہیں ہو گا

اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی جوہری مذاکرات کار نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی کانگریس کی جانب سے تھران کے خلاف ہر قسم کی نئی پابندیوں کی منظوری کی صورت میں ایران و گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جوہری سمجھوتے پر عمل نہیں ہوگا۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی جوہری مذاکرات کار نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی کانگریس کی جانب سے تھران کے خلاف ہر قسم کی نئی پابندیوں کی منظوری کی صورت میں ایران و گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جوہری سمجھوتے پر عمل نہیں ہوگا۔ فارس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ و اعلی جوہری مذاکرات کار "سید عباس عراقچی " نے آج تھران میں میڈیا کالج کے طالب علموں کے ساتھ گفتگو میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ جنیوا اور نیویارک میں امریکہ کے ساتھ ایران کے مذاکرات صرف جوہری مسئلہ کے ہی دائرے میں تھے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران جوہری مسئلہ کے بارے میں گروپ پانچ جمع ایک کے رکن ممالک کے ساتھ دو جابنہ مذاکرات جاری رکھے گا۔جناب "سید عباس عراقچی" نے اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ایران یورینیئم کی افزودگی کا حق این، پی، ٹی معاہدے اور بین الاقوامی قوانین سے حاصل کرے گا نہ گروپ پانچ جمع ایک سے، تاکید کی کہ ایران کو جوہری توانائي کی عالمی ایجینسی کے معائنہ کاروں سے کوئی مشکل نہیں ہے، کیونکہ تھران کے پاس کوئی خفیہ و غیر پرامن پروگرام نہیں ہے ، لیکن ایران ، معائنہ کاری کے غلط استعمال کا مخالف ہے۔ایران کے اعلی جوہری مذاکرات کار نے اسی طرح تھران کے جنوب میں فردو ری ایکٹر اور نطنز کی جوہری سائٹ میں آن لائن کیمروں کے نصب کیئے جانے کے لئے، گروپ پانچ جمع ایک کی درخواست کے بارے میں کہا کہ ایران نے اس درخواست کی مخالف کی ہے اور ان سائٹوں پر دسترسی آف لائن ہے۔ جناب "سید عباس عراقچی" نے مغرب و خاصطور پر امریکہ کی جانب سے جنیوا سمجھوتے کی خلاف ورزی کے صورت میں ساٹھ فیصد یورینیئم کی افزودگی کے لئے حکومت کو پابند کرنے پر مبنی ایران کی پارلیمنٹ کے ارکان کے بل کے حوالے سے کہا کہ پارلیمنٹ میں جو بل بھی منظور ہوا ، حتمی طور پر اس پر عمل کیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲