28 دسمبر 2013 - 20:30
ڈاکٹر صالحي: پر امن ايٹمي ٹيکنالوجي ميں ايران کي پيشرفت

ايران مغربي ايشيا کا پہلا ملک ہے جو پر امن ايٹمي ٹيکنالوجي سے کام ليکر بجلي کي پيداوار ميں کامياب ہوا ہے۔ اسي کے ساتھ پرامن ايٹمي ٹيکنالوجي کے ميدان ميں ايران کي پيشرفت جاري ہے ۔

ابنا: اسلامي جمہوريہ ايران کے ايٹمي توانائي کے قومي ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علي اکبر صالحي نے ايک گفتگو ميں کہا ہے کہ اسلامي جمہوريہ مغربي ايشيا کا پہلا ملک ہے جس نے ايٹمي بجلي کي پيداوار شروع کي ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ايٹمي توانائي، ماحوليات کو آلودگي سے پاک رکھنے اور اقتصادي نقطہ نگاہ سے اتني مناسب ہے کہ کوئي بھي اس اہم توانائي سے بے اعتنا نہيں ہوسکتا۔ ڈاکٹر علي اکبر صالحي نے بتايا کہ اس وقت دنيا کي سولہ فيصد بجلي ايٹمي توانائي سے حاصل کي جارہي ہے۔ايران کے ادارہ ايٹمي توانائي کے سربراہ نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران، بڑي طاقتوں کے تمام تر دباؤ اور ان کي جانب سے کھڑي کي جانے والي بے انتہا رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود، ايک ہزار ميگاواٹ پيداواري صلاحيت کے ساتھ ، ايٹمي بجلي گھر سے استفادہ شروع کيا اور گزشتہ تين مہينے ميں ، بو شہر ايٹمي بجلي گھر سے تقريبا ڈيڑھ ارب کلو واٹ بجلي پيدا کي گئي ۔اسلامي جمہوريہ ايران کي پارليمنٹ مجلس شورائے اسلامي کے فيصلے کے مطابق ايران کي حکومت کو ايٹمي توانائي سے بيس ہزار ميگاواٹ بجلي کي پيداوار کے ہدف تک پہنچنا ہے ۔اس سلسلے ميں ايران کے ادارہ ايٹمي توانائي نے، ايٹمي بجلي گھروں کي تياري کا ايک  وسط مدتي  پروگرام تيار کيا ہے جس کے تحت بارہ سال ميں چار ہزار ميگاواٹ بجلي پيدا کرنے کي صلاحيت کے نئے بجلي گھروں کي تياري کا ہدف مد نظر ہے ۔ دوسرے الفاظ ميں اس مدت ميں ايران ميں مزيد تين يا چار ايٹمي بجلي گھر تيار کئے جائيں گے ۔   اسلامي جمہوريہ ايران نے ايٹمي بجلي گھروں کے ايندھن کے تياري کے تمام مراحل بہت اچھي طرح طے کرلئے ہيں اور  پر امن ايٹمي ٹيکنالوجي سے کام لينے ميں ايران کي پيشرفت اميد افزا ہے ۔اس درميان ايران کے دشمن ممالک جو نہيں چاہتے کہ ايران پيشرفت کرے، اسلامي جمہوريہ ايران کي ايٹمي پيشرفت کو روکنے کي پوري کوشش کررہے ہيں ۔ اس کے باوجود ايران کي پيشرفت جاري ہے اور اس وقت بہت سے نيوکليئر ميڈيسين، ايران کے اندر ہي تيار کي جارہي ہيں ۔ اس کے علاوہ زراعت، غذائي اشيا کي کيفيت بہتر بنانے اور  ميڈيکل کے تمام شعبوں ميں ايٹمي توانائي سے کام لينے کے لئے بڑے منصوبوں پر کام ہورہا ہے جس ميں  نماياں پيشرفت کا مشاہدہ کيا جارہا ہے ۔اسلامي جمہوريہ ايران نے اسي کے ساتھ  اپنے پرامن ايٹمي پروگرام کے تعلق سے اعتماد سازي ، ايٹمي توانائي کي بين الاقوامي ايجنسي کے ساتھ وسيع اور شفاف تعاون اور دنيا کے لوگوں پر يہ حقيقت واضح کرنے کے لئے بھي کسي بھي کوشش سے دريغ نہيں کيا ہے کہ اس کي تمام ايٹمي سرگرميان پر امن مقاصد کے لئے ہيں اور پوري شفافيت کے ساتھ آئي اے اي اے کي نگراني ميں جاري ہيں.

.....

/169