اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ بدھ کے دن سے داعش، جبہۃالنصرہ اور احرار الشام نامی وہابی ـ تکفیری دہشت گردوں نے مزدوروں کے شہر عدرا پر قبضہ کیا اور اس کے سینکڑوں خاندانوں کے خلاف انتہائی ہولناک اقدامات کئے اور درجنوں افراد کے سر قلم کرکے سڑکوں پر پھینک دیئے اور شہر بھر سے کھانے پینے کی اشیاء اور نانبائیوں سے آٹا چوری کرکے اپنے ٹھکانوں کی طرف لے گئے۔ ڈاکٹر مظہر ابراہیم عدرا کے جیولاجیکل سروے ڈپارٹمنٹ میں طب کے دکھی انسانیت کی خدمت میں مصرف تھے۔ وہ ریف طرطوس کے شہر صافیتا کے نواحی گاؤں عین بشریتی کے رہائشی ہیں۔ ڈاکٹر ابراہیم نے "العاجل" نامی ٹی وی چینل کے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: میں کئی برسوں سے عدرا میں ہی تعینات تھا بدھ کے روز صبح کے وقت گھر کے قریب نانبائی کے سامنے سے گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں اور نانبائی کے مسلح نگہبانوں اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپیں ہورہی تھیں۔ بہت دشوار لمحات تھے چنانچہ میں اپنی بیوی اور ڈیڑھ سال کی بچی کے ہمراہ قریبی عمارت میں واقع پناہگاہ میں پہنچا جہاں شہر کے درجنوں افراد پہلے سے پناہ لئے ہوئے تھے۔ ہم وہیں سے دیکھ رہے تھے کہ دہشت گرد کس طرح لوگوں کو قتل کررہے ہیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ ان سرکاری ملازمین اور حکومت کے ساتھ تعاون کرنے والے افراد کو خاص طور پر ٹارچر کررہے تھے اور ان سے پوچھ گچھ کررہے تھے۔ ہم تین دن تک نہایت مشکل حالات میں اسی پناہ گاہ میں رہے اور چوتھے روز خفیہ طور پر کئی اور خاندانوں کے ہمراہ عمارت سے نکل کر قومی شاہراہ پہنچے جہاں خوش قسمتی سے سرکاری فوجی دستے موجود تھے اور نجات یافتہ افراد کو ایک فوجی ٹرک میں سوار کرکے پرامن مقام پر منتقل کیا گیا اور ہم بھی اپنے خاندان کے ہمراہ طرطوس چلے آئے۔ ہم نے اور میری بیوی اور چھوٹی بچی نے درجنوں نہتے انسانوں کے بےجان جسم گندی سڑکوں پر پڑے دیکھے جن کے سر بدن سے جدا کئے گئے تھے یا پھر ان کی شاہرگ کاٹ دی گئی تھی۔ ڈاکٹر کی بیوی نے بھی بتایا: دہشت گردوں کا لب و لہجہ اور ان کی شکل و شباہت شامیوں جیسی نہیں تھی اور ان کے ماتھوں پر لگی پٹیوں پر لکھا تھا: جبہۃالنصرہ۔ انھوں نے کہا: ہم نے اپنا بھرا گھر تکفیریوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور صرف پہنے کپڑوں کو لے کر بھاگ آئے اور شہر کا محاصرہ کرنے والے فوجی دستوں نے ہمیں دہشت گردوں کی پہنچ سے باہر نکالا۔ طرطوس کے گورنر نزار اسمعیل موسی نے نجات یافتہ خاندان کے اعزآز میں ضیافت دی جبکہ ان کی چھوٹی بچی اپنے کھلونے مانگ رہی تھی جو وہ عدرا میں چھوڑ آئی تھی۔ واضح رہے کہ مسلح دہشت گردوں نے گذشتہ بدھ سے عدرا العمالیہ پر حملہ کیا اور انھوں نے پہلے سے تیار کردہ لسٹ کے مطابق، مختلف افراد کو گرفتار کرکے قتل کیا۔ شامی ذرائع بتاتی ہیں کہ دہشت گردوں نے 80 افراد کو قتل کیا ہے جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کی تعداد ایک سو سے زائد ہے اور بعض رپوروں کے مطابق یہ تعداد بہت زيادہ ہے اور شام کے وزیر اطلاعات نے بھی کہا ہے کہ شہداء کی صحیح تعداد کا پتہ عدرا میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرنے کے بعد ہی معلوم ہوسکے گی۔ قابل ذکر ہے کہ شہر عدرا میں چھ سو کے قریب صنعتی مراکز، کارخانے اور ورکشاپ ہیں اور اس شہر کی عمارتوں میں مزدور، سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ رہائش پذیر ہیں۔ یہ شہر دمشق سے چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر دمشق ـ حمص شاہراہ پر واقع ہے اور اس شہر کی آبادی ایک لاکھ سے زائد ہے جبکہ دہشت گردی سے متاثرہ شہروں سے ہجرت کرکے اس شہر میں آبسنے والے افراد کی تعداد بھی ایک لاکھ کے قریب ہے اوریوں اس شہر کی موجودہ آبادی دو لاکھ سے بھی زائد ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
شام: دہشت گردوں کے بیرونی حامیوں کا اتحاد خطرے میں پڑ گیا
شام: عدرا کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی کاروائی جاری
شام: عدرا کی کہانی ایک شامی ڈاکٹر کے زبانی
شام: القلمون کے شہروں میں زندگی کی رونقیں لوٹ آئیں
تقصیلی خبروں کے لئے رجوع کریں:
دیر الزور میں فوجی کاروائی/ مغربی عرب اتحاد ختم ہورہا ہے/ عدرا میں کاروائی کی تفصیل