16 دسمبر 2013 - 20:30
دور حاضر میں مسلمانوں کے مشکلات کا واحد حل اتحاد و یکجہتی ہے:اسماعیل زھی

ایران کے ممتاز اہلسنت عالم دین اور زاہدان کے امام جمعہ کا کہنا ہے، موجودہ حالات میں مسلمانوں کے درمیان عملی اتحاد اور دلی وابستگی جہان اسلام کی اس دور کی مشکلات کے حل کی کلید ہے۔

ابنا: ایران کے ممتاز اہلسنت عالم دین اور زاہدان کے امام جمعہ مولوی عبد الحمید اسماعیل زھی نے زاہدان میں اہلسنت کی مسجد مکی میں اس ہفتہ کی نماز جمعہ کے خطبوں میں کہا، ہمارا اعتقاد اور ایمان ہے کہ شیعہ اور اہلسنت میں آپس میں کوئی فرق نہیں ہے اور دونوں فرقے دینی بھائی اور مسلمان ہیں اور ہماری کامیابی اس میں ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ بغیر کسی امتیاز اور فرق کے اپنے اسلامی ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے کوشش کریں ۔

اس نے مزید کہا: جناب صدرد حسن روحانی کی با تدبیر اور پر امید حکومت کے بر سر کار آنے اور ملک کے مختلف تنفیذی اور اجرائی عہدوں پر با صلاحیت شیعہ اور سنی افراد کے تقرر نے قوم کو نظام جمہوری اسلامی کے تئیں پہلے سے زیادہ پر امید بنایا ہے صدر جمہوریہ سے ہماری درخواست بھی یہی ہے کہ کسی بھی قسم کے دبائو پر دہیان دیے بغیر اپنے اقلیتوں اور اقوام و مذاہب کے حقوق کے ادایگی کے سلسلہ میں کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائیں ۔

زاہدان کے اہلسنت کے خطیب جمعہ نے مزید کہا: قائد انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای جو ملت کے باپ کی حیثیت رکھتے ہیں سے ہماری درخواست ہے کہ اپنی مخصوص درایت کے ساتھ حکومت کی رہنمائی فرمائیں ۔

انہوں نے مزید کہا: انتہا پسند چاہے اہلسنت ہوں یا شیعہ برابر ہیں اس لئے کہ انتہا پسندی کا نتیجہ صرف اور صرف مملکت اور اسلامی نظام کا نقصان ہے ، مولوی عبدالحمید نے واضع طور پر کہا: میں اطمینان رکھتا ہوں اور یہ میرا اعتقاد اور ایمان ہے کہ عدالت کے اجراء اور امتیازی سلوک کو ختم کرنے سے قومی سطح پر امن و امان اور قومی اتحاد کی سوغات نصیب ہوتی ہے اور ہم ان دو بڑی نعمتوں کو صرف اسی وقت حاصل کر پائیں گے کہ جب سب کو ان کے حقوق مل جائیں اور سب پر یکساں طور پر توجہ کی جائے اور ہم سب خدا کو حاضر و ناظر جانیں ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے حکام سے یہی توقع ہے کہ وہ خیر اور نیکی کا سرچشمہ بنیں تاکہ ہمارا شہر بھی بدل جائے اور ہمارا صوبہ بھی تبدیلیوں کا مرکز بنے ۔

انہوں نے مستحکم اور پائیدار امن و سلامتی کی راہ میں جد و جہد کو لازمی قرار دیتے ہوے اظہار خیال کیا امن و سلامتی ہمارے صوبہ کے لئے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے اور میں تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ جس قدر ان کے امکان میں ہے امنیت برقرار کرنے کی راہ میں انشاء اللہ کوتاہی نہ کریں ۔

.......

/169