اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عالمی دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرنے والے سعودی اہلکار بندر بن سلطان کے زیر اہتمام شام میں برسرپیکار دہشت گردوں کا بڑا اتحاد بنانے کی کوششیں زوروں پر ہیں اور آل سعود کی طرف سے ایک بڑا اور مؤثر محاذ بنانے کی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔ محمد الجولانی اور ابوبکر البغدادی کی تنظيمیں جبہۃالنصرہ اور داعش نے القلمون میں کہا ہے کہ ان دہشت گرد تنظیموں نے اختلافات ختم کرکے بشار الاسد کے بعد کے شام کے بارے میں سوچنے کا فیصلہ کیا ہے۔ النصرہ کے ایک کمانڈر نے روزنامہ الاخبار کو بتایا کہ زہران علوش کی تنظیم جیش الاسلام کے ساتھ النصرہ اور داعش کے اختلافات بہت گہرے ہیں کیونکہ غلوش سعودیوں کا ایجنٹ ہے اور وہ ہر کام بندر بن سلطان کی ہدایت پر کرتا ہے اور بندر امریکی اور ناقابل اعتماد ہے، تاہم احرار الشام پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ جیش الاسلام درحقیقت جیش الاقلام ہے اور علوش آل سعود کے ہاتھوں میں کھیلنے والا کھلونا ہے اور احرار الشام بھی غیر منظم ہے اور اس کی معلومات بہت جلد فاش ہوجاتی ہیں تاہم ہم سب کا مقصد حکومت شام کو گرانا ہے چنانچہ کسی طرح سے آپس میں تعاون کریں گے!! الاخبار کے مطابق النصرہ اور داعش کے نمائندوں نے القلمون کے شہر یبرود میں زہران علوش کے ساتھ مستقبل میں تعاون کے بارے میں بات چیت کی ہے۔ النصرہ باقاعدہ القاعدہ کو ایمن الظواہری کی حمایت حاصل ہے اور القاعدہ کی ذیلی تنظیم ہے اور داعش شام کی ح����8�ک القاعدہ کی باغی تنظیم ہے اور ان دونوں نے النبک شہر سے علوش کےماتحت مسلح دہشت گردوں کی پسپائی پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ لوگ ہمآہنگی کے بغیر میدان جنگ سے بھاگ گئے حالانکہ دوسرے ٹولے آپس میں تعاون کررہے تھے۔ باخبر ذرائع کے مطابق ان دہشت گرد ٹولوں کو متحد کرنے کے لئے سعودی حکومت سرگرم ہوئی ہے تا کہ ایک دو مہینوں کے دوران ـ اور جنیوا 2 کانفرنس سے پہلے ـ میدان جنگ میں کچھ حاصل بھی کرسکیں تاکہ جنیوا کانفرنس میں آل سعود کا ہاتھ بالکل خالی نہ ہو۔ واضح رہے کہ امریکہ اور یورپ شام میں آل سعود کے ساتھ تعاون پر نظر ثانی کرنے لگے ہیں اور آل سعود اس معرکے میں اب امریکی پالیسیوں کے برعکس عمل کررہے ہیں اور مغربی ذرائع ابلاغ نے بھی کافی حد تک صدر بشار الاسد کے خلاف تشہیری مہم کو معتدل کرکے آل سعود پر انگلیاں اٹھانا شروع کی ہیں؛ یہاں تک کہ بعض ذرائع نے سعودی عرب پر امریکی حملے کےبارے میں چہ میگوئیاں شروع کی ہیں اور کہا ہے کہ "شک نہيں ہے کہ امریکہ سعودی عرب پر حملہ کرے گا اور اس حملے کا فیصلہ گیارہ ستمبر کے بعد ہی ہوا تھا جو بعض تحفظات کی وجہ سے ملتوی ہوتا رہا تھا اور اب دیر صرف اس بات کی ہے کہ صدر امریکہ حملے کا حکم جاری کریں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
11 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 488004
النصرہ اور داعش کے درمیان شدید اختلافات، نیز ان دو دہشت گرد ٹولوں کے بندر ـ زہران کے ٹولے جیش الاسلام کے ساتھ اختلافات کے باوجود، ان کے درمیان اتحاد کے لئے مذاکرات ہوئے ہیں۔