اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق گوکہ ریف دمشق سے دہشت گردوں کی مسلسل ناکامیوں کی خبریں مل رہی ہیں لیکن شام کے شمال میں محصور شہروں کی صورت حال بہتر نہیں ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مسلح افواج جنگ کے موجودہ مرحلے میں دمشق اور حمص کے نواحی علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کرنے میں مصروف ہیں اور حلب کے جنوب اور مشرق سے بھی سرکاری افواج کے بہت بڑے قافلے اس شہر میں بھی میں داخل ہوئے ہیں لیکن دو شیعہ شہروں نبل اور الزہراء کی صورت حال ابھی تک مبہم ہے۔ نبل اور الزہراء گذشتہ ایک سال سے احرار الشام، جبہۃالنصرہ اور داعش کے غیرملکی دہشت گردوں کے محاصرے میں ہیں اور وہاں کے عوام کو ادویات، اشیاء خورد و نوش اور بچوں کے لئے خشک دودھ کی شدید قلت کا سامنا ہے لیکن یہ مسائل مارٹر اور راکٹ حملوں کے ساتھ مل کر ان شہروں کے باسیوں کی زندگی مزید اجیرن بنا رہے ہیں۔ نبل اور الزہراء کی کل آبادی زيادہ سے زيادہ 50000 ہے اور دہشت گردوں کی یلغار کے آغاز سے لے کر اب تک ان شہروں میں 743 افراد دہشت گردوں کے حملوں میں شہید ہوچکے ہیں؛ اور کئی ہزار افراد بھاگ کر پرامن علاقوں میں بس گئے ہیں لیکن دہشت گرد ان شہروں پر مسلط ہونے کی حسرت دل پر لئے ہوئے ہیں اور وہ ان میں داخلے کی جرأت سے عاری ہیں کیونکہ شیعہ نوجوان بےجگری سے ان کا مقابلہ کررہے ہیں اور انہیں کئی مرتبہ جانی او��B1 مالی نقصانات بھی پہنچا سکے ہیں۔ یہ دو شہر محصور ہیں، اشیاء صرف کی قلت ہے لیکن عوام اور نوجوانوں کے حوصلے بلند ہیں اور شمالی شام میں صرف ان دو شہروں میں شام کا پرچم شیعیان آل رسول(ص) کی استقامت کی برکت سے ابھی تک لہرا رہا ہے جو تکفیریوں کے سامنے سینہ سپر ہوکر اور ان کے وحشیانہ اور قرون وسطائی افکار کا مقابلہ کررہے ہیں۔ ان دو شہروں کے بہادر نوجوانوں کو آپ شام کے مختلف شہروں میں فوج اور قومی دفاعی فورسز میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔

ان دو شہروں کو امدادی سامان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے اور جب سے داعش کے وحشی دہشت گردوں نے کردوں کے شہر "عفرین" کا محاصرہ کیا ہے ان شہروں میں زمینی امداد کی ترسیل بہت کم ہوگئی ہے؛ اور جو کرد اب بھی اشیاء خورد و نوش کو ان شہروں میں پہنچا کر کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت کررہے ہيں اور عوام کی بھوک کو اپنی تجارت کا وسیلہ بنائے ہوئے ہیں انہیں بھی القاعدہ کے تکفیریوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہے۔ موسم سرما کی آمد پر لوگوں کے مسائل میں شمالی شام کی شدید سردی کا مسئلہ بھی شام ہوچکا ہے اور ان دو شہروں کے بہادر مگر مظلوم باشندے شامی افواج کے چشم براہ ہیں کہ وہ حلب کے شمالی علاقوں کو دہشت گردوں سے چھڑاتے ہوئے ان دو شروں کا محاصرہ بھی توڑ دیں اور ان کی ناگفتہ بہ حالت میں بہتری آسکے۔ نبل اور الزہراء میں اب تک متعدد افراد بھوک اور علاج معالجے کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے شہید ہوئے ہیں اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے جھوٹے نعرے لگانے والے مغربی ممالک اور عالمی اداروں کی موجودگی میں ان دو شہروں کو انسانی الميے کا سامنا ہے۔
شام: ریف دمشق میں سرکاری افواج کی زبردست پیشقدمی اطلاعات کے مطابق صوبہ ریف دمشق میں سرکاری افواج کی پیشقدمی جاری ہے۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ریف دمشق میں سرکاری افواج کی پیشقدمی جاری ہے جبکہ عذرا نامی قصبے میں تکفیری دہشت گردوں نے فوج کا سامنا کرنے سے بے بس ہوکر عام شہریوں کو نشانہ بنا کر کئی نہتے افراد کو شہید کردیا ہے۔ درندگی کا یہ واقعہ نام نہاد لواء الاسلام نامی دہشت گرد ٹولے کے ہاتھوں رونما ہوا۔ دہشت گردوں عذراء شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر عوام نے دواع کرکے انہیں شہر سے دور رکھا۔
تفصیل کے لئے کلک کریں:
شام: ریف دمشق میں سرکاری افواج کی زبردست پیشقدمی
شام: بندر بن سلطان کی جیش الاسلام کا القاعدہ کے ساتھ ممکنہ اتحاد النصرہ اور داعش کے درمیان شدید اختلافات، نیز ان دو دہشت گرد ٹولوں کے بندر ـ زہران کے ٹولے جیش الاسلام کے ساتھ اختلافات کے باوجود، ان کے درمیان اتحاد کے لئے مذاکرات ہوئے ہیں۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عالمی دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرنے والے سعودی اہلکار بندر بن سلطان کے زیر اہتمام شام میں برسرپیکار دہشت گردوں کا بڑا اتحاد بنانے کی کوششیں زوروں پر ہیں اور آل سعود کی طرف سے ایک بڑا اور مؤثر محاذ بنانے کی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔ محمد الجولانی اور ابوبکر البغدادی کی تنظيمیں جبہۃالنصرہ اور داعش نے القلمون میں کہا ہے کہ ان دہشت گرد تنظیموں نے اختلافات ختم کرکے بشار الاسد کے بعد کے شام کے بارے میں سوچنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیل کے لئے کلک کریں:
شام: بندر بن سلطان کی جیش الاسلام کا القاعدہ کے ساتھ ممکنہ اتحاد
شام: قطر۔ ترکی اور سعودی کرتوتوں کا نتیجہ، برف میں کھیلنے والا کوئی نہيں شام میں بھی دوسرے ممالک کی طرح جب موسم سرما کی پہلی برف شہروں کو سفید پوش کرتی تو بچے گرم لباس پہن کر سڑکوں پر آیا کرتے تھے اور کھیلا کرتے تھے لیکن اس سال حمص کا ویراں شہر سعودی عرب، ترکی اور قطر کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں بےمکین ہے۔اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق حمص میں اس سال کے موسم سرما کی پہلی برف سڑکوں پر جم گئی ہے لیکن سڑک تباہ حال اور شہر ویراں اور شہری ناپید ہیں کیونکہ انہيں عالمی دہشت گردوں اور ان کے صہیونی و مغربی حامیوں نے مار بھگایا ہے، وہ آل سعود اور آل ثانی اور اردوگان کے ہاتھوں اور اسرائیل کے تحفظ کے لئے بےگھر ہوکر دوسرے علاقوں یا پھر بیرونی ممالک میں پناہ گزین ہوچکے ہیں اور دوسرے ویراں شہروں کی طرح اس شہر کی نوجوان لڑکیوں کو عرب شیوخ کی انسان فروشی کی مارکیٹوں میں فروخت کیا جارہا ہے۔
تفصیل کے لئے رجوع کریں:
شام: قطر۔ ترکی اور سعودی جارحیت کا نتیجہ، برف میں کھیلنے والا کوئی نہيں
شام: سعودی، کویتی، قطری، اردنی اور لیبیائی دہشت گردوں کی ہلاکتیںترکی، اردن نیز شام میں بعض حلقوں اور عراق میں داعش کے دہشت گردوں کے تعاون سے ہزاروں غیر ملکی دہشت گرد شام میں داخل ہوئے ہیں اور ہزاروں ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شامی افواج نے حمص کے علاقے "بستان الدیوان" میں کاروائی کرکے جبہۃالنصرہ کے درجنوں دہشت گرد ہلاک کردیئے ہیں اور اس دہشت گرد تنظیم پر کاری ضربیں لگائی ہیں۔
تفیل کے لئے کلک کریں:
شام: سعودی، کویتی، قطری، اردنی اور لیبیائی دہشت گردوں کی ہلاکتیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/٭۔۔٭