ابنا: وزیرخارجہ " محمدجواد ظریف " نے امریکی جریدے ٹائمز میگزین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے بحران کے حوالے سے جنیوا ٹو مذاکرات میں کسی پیشگی شرط کے بغیر اسلامی جمہوریہ ایران کو دعوت دی گئی تو تھران ان مذاکرات میں فغّال شرکت کرے گا۔ " محمد جواد ظریف نے تاکید کی کہ اگر مغرب نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ایران کو جنیوا ٹو مذاکرات میں شرکت کی دعوت نہ دے تو یہ مغربی ملکوں کے نقصان میں ہوگا، کیونکہ ایران کا یہ خیال ہے کہ شام میں جو حالات رونما ہورہے ہیں اس کا علاقے کے مستقل سے گہرا تعلق ہے اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی مرتب ہوں گے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے اپنے اس انٹرویو میں مزید کہا کہ اگر امریکی کانگریس نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کیں تو پورا سمجھوتہ مسترد ہو جائے گا اورہم دباؤ میں مذاکرات کرنا پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس کی جانب سے پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو اس سے مسائل کا حل نکالنے میں امریکہ کی سنجیدگی اور ناتوانی کا پتہ چل جائے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ " محمد جواد ظریف" نے واضح کیا کہ اگر ایران کے خلاف نئی پابندیاں لگائی گئیں تو ہماری بھی پارلیمنٹ ہے اگر مذاکرات ناکام رہتے ہیں تو ہماری پارلیمنٹ بھی کئی قرارداد منظور کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ امریکا کے کچھ پارلیمانی رکن تہران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ انہیں اوباما کی حکومت کی مخالفت کا سامنا ہے۔
.......
/169