ابنا: محمد جواد ظریف نے الجزیرہ انگریزی چینل سے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ حکومت کی تبدیلی اور نئي حکومت کی خارجہ پالیسی میں تبدیلیوں کے باوجود ہماری خارجہ پالیسی کے اصولوں میں کوئي تبدیلی نہیں آئي ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے عوام،مغرب پر ہرگز اعتماد نہیں کرتے اور اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ مغرب، دوہرے معیارات پر عمل کرتا ہے اور مغرب نے ایرانی قوم کو اپنے حقوق کے حوالے سے مسائل میں مبتلا کیا ہے۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایرانی قوم دباؤ اور مرعوب کرنے کی کوششوں پرحساس ہیں اور منفی رد عمل ظاہر کرتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ مغرب اس مرتبہ جنیوا مذاکرات کے ملنے والے تاریخی موقع سے بھرپور استفادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ایرانی قوم کا اعتماد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے علاقے کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقائي ممالک کو باہمی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ فرقہ واریت سے بچا جاسکے۔محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایران، فرقہ واریت کو علاقے کے لئے خطرناک سمجھتا ہے اور یہ بات تمام علاقائي ملکوں کے حق میں ہے کہ وہ مشترکات پر اعتماد کریں۔ ایران کے وزیر خارجہ نے شام کے بارے میں کہا کہ شام کا بحران حل کرنے کےلئے تمام گروہوں کو شریک ہونا چاہیئے۔ انہوں نے جینوا ٹو کانفرنس کے بارے میں کہا کہ ایران، شام کے بحران کو مفاہمت آمیز طریقے سے حل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے لیکن جنیوا ٹو کانفرنس میں شرکت کے لئے کوئي شرط قبول نہیں کرے گا۔
.......
/169