ابنا: امریکی صدر اوباما نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ ایٹمی سفارتکاری کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی اقدامات کے بجائے گفتگو سے امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق باراک اوباما نے بروکینگز انسٹی ٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے ایران کے تعلق سے اپنے اور صیہونی وزیر اعظم کے درمیان موجود اختلافات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ایران میں کوئي بھی پارٹی اور دھڑا ایک عشرے سےجاری ایٹمی تنازعے کے شرافتمندانہ حل کے علاوہ اور کسی چیز پر راضی نہیں ہوگا۔ انہوں نے نیتن یاہو کے اس نظریئے پر تنقید کی کہ ایران کے خلاف پابندیوں میں شدت لانے سے ہی ایران کا ایٹمی پروگرام روکا جاسکتا ہے۔اوباما نے کہا کہ ایسا حل، کہ جس میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو مکمل طرح سے رول بیک کروادیا جائے، حقیقت پسندانہ نہيں ہے۔ واضح رہے کہ جینوا میں ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیاں عبوری ایٹمی معاہدے کے بعد وھائٹ ہاوس نے ایران پر نئي پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
7 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 487012
امریکی صدر اوباما نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ ایٹمی سفارتکاری کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی اقدامات کے بجائے گفتگو سے امن قائم کیا جاسکتا ہے۔