6 دسمبر 2013 - 20:30
جہادی تنظیموں کے خلاف امریکی وزارت خارجہ کی آن لائن مہم

امریکی وزارتِ خارجہ نے حال ہی میں شدت پسندوں کی جانب سے لوگوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے متاثر کرنے والوں کے خلاف ایسے افراد کو بھرتی کرنا شروع کیا ہے جس کا مقصد انٹرنیٹ پر شدت پسندوں کی کوششوں کو زائل کرنا ہے۔

ابنا: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب القاعدہ اور اس سے وابستہ تنظیمیں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے افراد کو اپنی جانب مائل کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ شام میں دہشت گردوں کے ہمراہ لڑنے کے لیے کئی امریکی شام گئے یا انہوں نے شام جانے کی کوشش کی۔ یمن میں القاعدہ انگریزی پڑھنے والوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے اپنی ویڈیوز پر انگریزی سب ٹائٹل دیتی ہے۔ دوسری جانب صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب انگریزی میں آن لائن رسالہ بھی شائع کرتی ہے۔وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کا پروگرام تجرباتی سطح پر ہے جس میں انگریزی کی ویب سائٹوں، ٹوئٹر، یوٹیوب ویڈیوز اور فیس بک پیجز پر نظر رکھی جائے گی جہاں پر اب تک یہ شدت پسند تنظیمیں اپنے نظریات بغیر کسی روک ٹوک کے پھیلاتی تھیں۔ابتدائی طور پر ہمارے افراد ان ویب سائٹوں پر صرف تصاویر اور پیغامات پوسٹ کریں گے اور شدت پسندوں کے ساتھ بحث میں حصہ نہیں لیں گے۔ وزارتِ خارجہ کے دفتر کے رابطہ کار اور سابق سفارت کار البرٹو ایم فرنینڈس کا کہنا ہے: ’ہمیں ان کے پیغام کو زائل کرنے لیے تیار رہنا ہو گا۔‘تاہم امریکی اور یورپی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ انگریزی بولنے والے شدت پسند اس وقت زیادہ بڑا خطرہ بن سکتے ہیں جب وہ شام میں مسلح تصادم میں حصہ لے کر واپس اپنے ملک لوٹیں گے۔ ہماری توجہ 18 سے 30 سال تک کی عمر کے افراد پر ہے جن میں سے اکثریت کا تعلق مشرق وسطیٰ سے ہے۔ یہ تجزیہ کار عربی، اردو، صومالی اور پنجابی بول سکتے ہیں۔نیو یارک ٹائمز کے مطابق پچھلے تین سالوں سے امریکی وزارت خارجہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے ایسی کیا چیز ہے جس سے لوگ شدت پسندی کی جانب مائل ہوتے ہیں اور ایسا کیا کیا جا سکتا ہے کہ ان افراد کو شدت پسندی سے دور رکھا جا سکے۔امریکی تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن میں فیلو اور سابق وزارت خارجہ کے انسداد دہشت گردی کے اہلکار ولیم میک کینٹس کا کہنا ہے: ’مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے کئی جہادی اور القاعدہ کی کم از کم ایک اتحادی تنظیم الشباب نئی بھرتیوں کے لیے انگریزی کا استعمال کرتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کے پیغام کے اثر کو زائل کرنے کے لیے انگریزی ہی کا استعمال کیا جائے۔‘وزارت خارجہ کی یہ کوشش امریکی حکومت کی شدت پسندوں کی کوششوں کے اثر کو زائل کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے 2008 میں ایک ٹیم قائم کی تھی جو اسی قسم کے پیغامات شائع کرتی تھی۔اس ٹیم میں 12 افراد ہیں جو عربی، پشتو، دری، اردو، فارسی اور روسی بولتے ہیں۔امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ضرورت کے مطابق پیغامات میں تبدیلی لائی جائے گی، اور اس بات کا بھی فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا یہ پیغام مستقل طور پر رکھے جائیں یا نہیں۔......./169