ابنا: ايران کي پارليمنٹ کے اسپيکر ڈاکٹر لاريجاني نے جمعے کو اپنے دورہ عمان کے اختتام پر مسقط ميں نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران ايک صحافي کے اس سوال کے جواب ميں کہ کيا اسرائيل جنيوا سمجھوتے پر اثر انداز ہوسکتا ہے کہا کہ صيہوني حکومت اتني بااثر نہيں ہے کہ وہ ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے مذاکرات پر اثر انداز ہوسکے۔ ڈاکٹر لاريجاني نے کہا کہ جنيوا سمجھوتہ يقيني طور پر پورے علاقے کے نفع ميں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ايران نے کبھي علاقے کے ملکوں کو صيہوني حکومت کے مقابلے ميں تنہا نہيں چھوڑا ہے ۔
ڈاکٹر لاريجاني نے کہا کہ دوہزار چھے ميں جب اسرائيل نے لبنان پر تينتيس روزہ جنگ مسلط کي تھي اور اسي طرح غزہ کي بائيس اور آٹھ روزہ جنگ ميں بھي ايران نے لبنان اور فلسطين کے عوام کا ساتھ ديا تھا۔ ڈاکٹرلاريجاني نے شام کے بارے ميں ايران کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے ميں فوجي طاقت کا استعمال علاقے کے مسائل کو حل نہيں کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ تہران سمجھتا ہے کہ شام ميں جمہوريت کو استحکام ملنا چاہئے ليکن جمہوريت بندوق کي گوليوں سے نہيں بلکہ عوام کي مرضي اور ان کے ووٹوں سے آني چاہئے ۔
ايران کي پارليمنٹ کے اسپيکر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کيا کہ علاقے کے بعض ممالک شام ميں جہموريت کي باتيں کرتے ہيں ليکن خود ان کا جمہوريت سے دور دور کا بھي واسطہ نہيں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام کے بحران کو ڈھائي سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد يہ بات واضح ہوگئي کہ شام ميں بحران پيدا کرنے کا ايک اصل مقصد مزاحمتي قوتوں کو کمزور کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے ميں علاقے کے ملکوں کو اس بات کا خيال رکھنا چاہئے کہ وہ دوبارہ غلطي نہ کريں۔ اسلامي جمہوريہ ايران کي پارليمنٹ نے اپنے دورہ عمان ميں سلطان قابوس اور اس ملک کے وزير خارجہ يوسف بن علوي اور پارليمنٹ کے اسپيکر سے الگ الگ ملاقاتيں کيں۔
.......
/169