5 دسمبر 2013 - 20:30
آل سعود کے ہاتھ شامیوں کے خون میں رنگے ہوئے ہیں

غوطہ شرقیہ میں سعودیوں کے حملے میں کم از کم 300 سعودی فوجی اور سزا یافتہ مجرم گرفتار ہوئے ہیں جنہیں جیلوں سے رہا کرکے شام منتقل کیا گیا تھا۔ غوطہ الشرقیہ میں اس حملے کی ناکامی کے بعد شام کی خانہ جنگی میں آل سعود کا کردار پہلے سے کہیں زيادہ طشت از بام ہوچکا ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے صرف 10 کلومیٹر دور غوطہ شرقیہ میں العتیبہ کے مقام پر قبضے کے لئے مسلح دہشت گردوں کی ناکامی کے بعد آل سعود کی رسوائی میں شدید اضافہ ہوا ہے؛ کیونکہ اس حملے سے معلوم ہوا ہے کہ گویا یا خالصتا سعودی حملہ تھا کیونکہ حملہ آوروں کی غالب اکثریت سعودیوں کی تھی جن میں سے بےشمار سعودی مارے گئے اور 300 افراد گرفتار ہوئے جن سے ابتدائی تفتیش کے دوران ہی معلوم ہوا کہ ان میں کئی سعودی افواج کے افسران ہیں اور باقی افراد وہ مجرمین ہیں جنہوں سے سعودی عدالتوں سے موت یا عمر قید کی سزا پائی تھی اور  سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز ال سعود نے انہیں "شام میں میں لڑنے کی شرط پر معاف" کردیا ہے اور یوں ان افراد کو جیلوں سے ہی براہ راست شام منتقل کیا گیا ہے جو بجائے خود اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ آل سعود کی حکومت شام میں براہ راست مداخلت کررہی ہے اور سعودی بادشاہ سے لے کر سعودی دہشت گردوں تک سب کے ہاتھ شامیوں کے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭

1