ابنا: الجزیرہ ٹی وی چینل پر منگل کے روز نشر ہونے والے انٹرویو میں محمد جواد ظریف نے کہا کہ خطے کے تمام ممالک کو فرقہ وارانہ تقسیم پر قابو پانے کی ضرورت ہے کہ جس سے شام سمیت خطے میں انتہا پسندی اور تشدد کو ہوا مل رہی ہے۔
ظریف نے کہ جو خلیج فارس ممالک کے دورے پر ہیں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کہا کہ تشدد کے خاتمے کے لیے ہمیں سیاسی حل تلاش کرنا چاہیئے تاکہ اس المیہ کا خاتمہ کیا جا سکے کہ جو سنّیوں اور شیعوں کے لیے شرم کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اسلامی دنیا کے لیے شرم کا باعث ہے۔ یہ ہمارے خطے کے لیے شرم کا باعث ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیئے کہ اس طرح کے اختلافات سے مسائل کو حل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔
کویت اور عمان کے دورے کے بعد دوحہ میں جواد ظریف نے کہا کہ ان کے اس دورے کا مقصد خلیج فارس کے ممالک کو یہ یقین دلانا تھا کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان حال ہی میں جنیوا میں طے پانے والا جوہری معاہدہ ان کے حق میں بہتر ہے۔
......./169