29 نومبر 2013 - 20:30
شام کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے حزب اللہ سے ثالثی کی درخواست

لبنانی اخبار "الاخبار" نے انکشاف کیا ہے کہ قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی نے اپنا ایک ایلچی بیروت روانہ کیا ہے جہاں اس نے حزب اللہ لبنان اور اسلامی مقاومت تحریک کے سربراہ سید حسن نصر اللہ یا حزب اللہ کے کسی دوسرے راہنما سے ملاقات کرکے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ شام کے ساتھ قطر کے دوستانہ تعلقات کی بحالی کے لئے ثالث کا کردار ادا کریں!

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق قطر کی طرف سے اس کوشش کا آغاز مغربی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری مسئلے میں مفاہمت کے بعد ہوا ہے اور قطر کی حکومت اور الجزیرہ چینل شام کے سلسلے میں نرم پڑ گیا ہے اور صدر اسد کی نسبت مصالحانہ رویہ سامنے آیا ہے۔ الاخبار نے لکھا ہے کہ اس ملاقات میں قطر سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ حزب اللہ، شام اور ایران کے سلسلے میں اپنی خیرسگالی ثابت کرنے کے لئے عملی اقدامات کرے کیونکہ قطر اگر آج بین الاقوامی سطح پر اہمیت اختیار کرگیا ہے تو اس کا تعلق اس زمانے سے ہے جب اسلامی محاذ مزاحمت کے ساتھ اس کے دوستانہ تعلقات تھے اور اس کی یہ پوزیش محاذ مزاحمت کے مرہون منت ہے۔ الاخبار نے لکھا ہے کہ قطر نے اعزاز میں لبنانی یرغمالیوں کو رہا کرانے اور ان کا قیدی شامی عورتوں سے مبادلہ کرانے ميں اہم کردار ادا کیا تھا اور دمشق کی رائے بھی قطر کی نسبت مثبت ہورہی ہے اور شام کی انٹیلجنس ایجنسی کے سربراہ علی مملوک نے اسی سلسلے میں قطر کے بعض اعلی حکام کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کئے ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ کے حکام نے دوحہ ـ دمشق تعلقات کی بحالی کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کے جواب میں کہا ہے کہ قطری حکام ابتداء میں شامی حکومت کے ساتھ اپنے پرانے رابطوں کو آزمائیں اور بند کردہ راستوں کو خود ہی کھول دیں۔ روزنامہ الاخبار کے چیف ایڈیٹر ـ جو بظاہر ان مذاکرت سے پوری طرح آگاہ ہیں ـ نے کہا ہے کہ قطر کی خواہش کہ ترکی، ایران، عراق، حزب اللہ اور حماس کا مشترکہ محاذ قائم ہو چنانچہ وہ محسوس کررہا ہے کہ دوحہ ـ دمشق تعلقات کو بحال ہونا چاہئے تاکہ یہ محاذ زيادہ قوت کے ساتھ آل سعود کی موجودگی اور اثر و رسوخ روکنے کے لئے میدان میں اترے!

............

/٭۔٭

اسلامی محاذ مزاحمت کی کامیابیاں اور صہیونی ریاست کی عظیم شکست کا آغاز

شام کے وزیر اعظم وائل الحلقی تہران پہنچے ہیں