اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کویتی اخبار الرأی نے اعلی برطانوی سفارتی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ حزب اللہ اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا موضوع القاعدہ کے خلاف جدوجہد، علاقائی استحکام اور لبنان کے مختلف موضوعات ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق انگریز سفارتکار حزب اللہ کے راہنماؤں کے ساتھ ان ملاقاتوں میں شریک تھے اور وہ حزب اللہ کے موقف کو واشنگٹن منتقل کرتے رہے ہیں۔ صہیونی اخبار "یروشلم پوسٹ" نے لکھا: سفارتی ذرائع کہتے ہیں کہ یہ مذاکرات علاقائی اور عالمی تبدیلیوں اور ایران کو عالمی برادری میں لوٹانے اور کے لئے ہونے والی کوششوں کا حصہ اور اس سلسلے میں عالمی برادری کی آمادگی کی علامت ہیں!۔ ان سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن، لندن کے برعکس، حزب اللہ کے سیاسی اور عسکری، دونوں شعبوں کو دہشت گرد سمجھتا ہے تاہم امریکہ حزب اللہ کے خیالات اور موقف کو جاننا اور ماحول کو مستقبل میں براہ راست رابطوں کے لئے سازگار بنانا چاہتا ہے۔ الرأی نے دعوی کیا: ایران کے صدر حسن روحانی نے گذشتہ ہفتے برطانوی وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایران اور مغرب کے مذاکرات کے درمیان حزب اللہ کے ساتھ مذاکرات کی تجویز بھی پیش کی ہے! ادھر صہیونی ریاست نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ اپنے سنہری دور سے گذر رہی ہےصہیونی ریاست نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ لبنان میں اسلامی مزاحمت تحریک کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے اور حزب اللہ ان دنوں اپنے طلائی دور سے گذر رہی ہے۔ یہودی ریاست کے اخبار "یدیعوت احارونوت" نے بدھ کے روز لکھا: موساد کے حکام کے ساتھ کابینہ کے اجلاس میں ـ نیتن یاہو کی موجودگی میں ـ اسرائیل کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا گیا اور اس سلسلے میں سالانہ رپورٹ پڑھ کر سنائی گئی۔ اور اس رپورٹ میں کہا گیا ہے: عراق کی فوج کمزور ہوچکی ہے، شام کے کیمیاوی ہتھیار تلف ہوچکے ہیں اور حزب اللہ کے شام میں دہشت گردوں کے ساتھ جنگ میں پھنسایا گیا ہے چنانچہ مجموعی طور پر یہ صورت حال اسرائیل کے مفاد میں ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے: حزب اللہ اپنی تاریخ کے سنہری دور سے گذر رہی ہے اور موجودہ حالات میں وہ حزب اللہ کی مسلح افواج سے زيادہ طاقتور ہوچکی ہے! صہیونی سیکورٹی حکام نے اس رپورٹ میں مصر کی صورت حال پر بھی رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر میں ہونے والے احتجاجات کی وجہ سے مصری مسلح افواج کی انٹیلی جنس قوت کمزور پڑگئی ہے اور یہ کمزوری صحرائے سینا میں القاعدہ کے خلاف جنگ میں محسوس کی جاسکتی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے: فلسطینی اتھارٹی کا صدر محمود عباس گوکہ حالیہ امن مذاکرات سے استفادہ کررہا ہے لیکن وہ امن معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے مناسب طاقت نہیں رکھتا۔ سالانہ سیکورٹی رپورٹ صہیونی ریاست کی اہم ترین سیکورٹی رپورٹس میں شمار ہوتی ہے جو صہیونی ریاست کی سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے دی جاتی ہے اور اس ریاست کی پالیسیوں کے لئے دائرہ کار کے تعین میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ادھر متعدد رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود سمیت خلیج فارس کی دیگری عرب ریاستوں کے حکمران ایران کے مقابلے میں اسرائیل کے ساتھ متحد ہونے کی کوشش کررہے ہیں اور غاصب یہودی ریاست نے بھی ان کے ساتھ متحد ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ برطانیہ میں یہودی ریاست کے سفیر دانیال تاؤپ نے کہا ہے کہ تل ابیب مشرق وسطی میں اپنے پرانے دشمنوں کےساتھ متحد ہونے کے لئے تیار ہے اور یہ اتحاد صہیونی سفیر کے بقول ـ ایران کی قیادت میں شیعہ اتحاد ـ کے خلاف ہوگا! اب یہ سوال اور ہے کہ اسلام دشمن صہیونی ریاست کی اس چال کو ہر بچہ بھانپ سکتا ہے کہ اس کے لئے تشیع اور تسنن دونوں ایک برابر ہیں اور شیعہ اور سنی عوام کبھی بھی یہود کو اپنا دوست تصور نہیں کرسکتے ورنہ تو وہ قرآن کی خلاف ورزی کے مجرم ہونگے چنانچہ اسرائیل اس وقت اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے اور عرب حکام بھی اپنی بقاء کے لئے یہودیوں کی گود میں جابیٹھے ہیں اور اسرائیلی ریاست اور عرب حکام مسلم عوام کو فریب دینے کے لئے "شیعہ مخالفت" کا نعرہ لگا رہے ہیں ورنہ نہ تو سنی کے خلاف کوئی شیعہ اتحاد ہے اور اسرائیل مخالف شیعہ ـ سنی اتحاد کو شیعہ اتحاد کا نام دیا جارہا ہے اور نہ ہی ایران ایٹم بم بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ صہیونی سفیر نے انڈیپنڈنٹ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان حالیہ مفاہمت ایران کی جنگی جوہری صلاحیت کو محدود کرنے میں بہت تھوڑا سا کردار ادا کرسکے گی اور ممکن ہے کہ یہ مفاہمت انتہا پسندانہ معاہدوں پر منتج ہوجائے!!! جس کے لئے یہودی ریاست خلیج فارس کی عرب ریاستوں ـ بالخصوص سعودی عرب ـ کے ساتھ اتحاد کرسکتی ہے۔ اس نے کہا: انتہا پسندانہ محاذ تہران سے دمشق، لبنان اور غزہ تک پھیلا ہوا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم ان محاذ کے مقابلے میں تشویش میں مبتلا واحد ریاست نہيں ہیں اور ہماری فکرمندیاں اور تصورات عرب ریاستوں کے ساتھ یکسان ہیں اور یہی ہمارے درمیان اشتراکات ہیں جو ایک تزویری اتحاد میں بدل سکتے ہیں!! اس نے اس حقیقت کی طرف توجہ نہیں کی کہ اگر تہران شیعہ ہے تو دمشق اور لبنان شیعہ اور سنی ہیں اور غزہ مکمل طور پر سنی ہے اور اسرائیل کے خلاف مزاحمتی محاذ درحقیقت حقیقی شیعہ سنی اتحاد کا ثبوت ہے چنانچہ ان کے خلاف عربوں کے ساتھ اتحاد ایک خائنانہ اتحاد ہے اور عرب حکام ایک بار پھر عالم اسلام کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی تیاری کررہے ہیں۔ اس سے پوچھا گیا: یہ کیسے ممکن ہے کہ اسرائیل نے ایک طرف سے فلسطین سمیت عرب سرزمینوں پر قبضہ کرلیا ہے اور عربوں کے ساتھ اسرائیل کی طویل دشمنی چلی آرہی ہے اس کے باوجود ان کے درمیان اتحاد قائم کیا جائے؟ تو اس نے کہا: علاقائی صورت حال ایسے فیصلوں کا سبب بن سکتی ہے جو اس سے قبل ممکن نہ تھے؛ بعض عرب ممالک میں بعض حلقے ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ بعض مسائل میں اسرائیل پر اعتماد کیا جاسکتا ہے!!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/٭۔٭