ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیرخارجہ اور مذاکرات کار ٹیم کے رکن سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ ایران کا معاہدہ کچھ دو کچھ لو اور وین وین پوزیشن کا معاہدہ ہے۔ سید عباس عراقچی نے منگل کو مجلس شورائے اسلامی میں جنیوا مذاکرات کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں ایران کے ایٹمی حقوق اور یورینیم کی افزودگي کے حق کو تسلیم کرلیا گيا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس برسوں بعد کی دھمکیوں اور پابندیوں کے بعد ایران کے یورینیم کی افزودگي کے حق کو باضابطہ طور پرتسلیم کرلیا گيا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنیوا مذاکرات کا سب سے بڑا ہدف موجودہ کامیابیوں کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے سارے ایٹمی پروگرام جاری رہیں گے اور کسی بھی پروگرام کو روکا نہیں جائے گا اور نہ کسی سیسٹم کو ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مغربی ممالک اپنے وعدوں پر عمل نہ کریں تو ایران اپنے تمام پروگراموں کو بھرپور طرح سے جاری رکھے گا۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے خلاف نئي پابندیوں کو روک دیا گیا ہے، تیل کی فروخت شروع ہوگئی ہے اور تیل کی آمدنی کا کچھ حصہ ایران کو ادا کردیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
26 نومبر 2013 - 20:30
News ID: 483860
اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیرخارجہ اور مذاکرات کار ٹیم کے رکن سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ ایران کا معاہدہ کچھ دو کچھ لو اور وین وین پوزیشن کا معاہدہ ہے۔