22 نومبر 2013 - 20:30
النصرہ کےسرغنوں سمیت 30 ہلاک/داعش کے 4 برطانوی دہشت گرد ہلاک/ کامیاب فوجی کاروائیاں

ریف حلب، نیز ریف دمشق میں القلمون میں مسلح دہشت گردوں کے تعاقب کے لئے کاروائیاں جاری ہیں/ حریتا شہر میں شامی افواج نے جبہۃ النصرہ کے چند سرغنوں سمیت 30 دہشت گرد ہلاک کردیا ہے/ داعش سے وابستہ 4 برطانوی دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں/ ملک بھر میں سرکاری افواج کی کاروائیاں جاری ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سرکاری افواج نے جمعہ کے روز ایک اہم کاروائی میں حلب ـ ادلب فری وے کے کنارے واقع دہشت گردوں کے آپریشن روم کو تباہ کردیا اور برزہ کے علاقے میں بھی ہتھیاروں اور گولہ بارود کا ایک گودام منہدم کردیا۔ برزہ کے محلے "نقطۃالخال" میں واقع دہشت گردوں کے متعدد خفیہ ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا اور العکید ابو مصقی نامی خطرناک دہشت گرد سمیت اس علاقے میں متعدد دہشت گرد ہلاک کئے گئے۔ جبکہ اس شہر میں واقع تشرین ڈسپنسری میں چھپے ہوئے متعدد دہشت گرد بھی فوجی کاروائی کا نشانہ بن کر ہلاک ہوگئے۔ حلب ـ ادلب فری وے کے کنارے واقع زرعی تحقیقات کے مرکز میں قائم دہشت گردوں کے آپریشن روم اور متعلقہ ہتھیاروں اور گولہ بارود کے گوداموں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا اور اس مرکز میں چھپے ہوئے تمام دہشت گرد ہلاک کئے گئے۔ نیز سرکاری افواج نے ابوظہور فوجی ہوائی اڈے کے نزدیک ابوالظہور اور البویطی نامی قصبوں، تل منلس اور المزارعہ نامی بستیوں اور معرۃ النعمان نامی شہر میں میدان الدلہ میں واقع دہشت گردوں کو ٹھکانوں کو تباہ کردیا۔ شامی فوج کی کاروائیاں دوسرے علاقوں میں جاری ہیں۔ القلمون کی جنگ "القارہ" شہر کی آزادی کے بعد سے اب تک جاری ہیں اور صدر بشار الاسد کے اعلان کے بعد یہ کاروائیاں اب مسلسل جاری رہیں گی اور شام کی جنگ چھ مہینوں میں اختتام پذیر ہوگی۔ اسی سلسلے میں دمشق کے شمال میں القلمون کے علاقے میں کاروائیاں جاری ہیں اور قارہ کے قریب جراجیر اور متعلقہ زرعی زمینوں اور باغات میں دست کاروائیاں ہورہی ہیں اور بھاگتے ہوئے دہشت گردوں کا تعاقب کیا جاتا ہے جبکہ اکثر دہشت گرد جان بچا کر بھاگ گئے ہیں جبکہ حلب کے جنوب میں "تل نبی، یوسف اور نقارین" نامی قصبوں کا کنٹرول حاصل کیا ہے اور حلب صوبے کے جنوب میں مسلسل پیشقدمی ہورہی ہے۔ ادھر دہشت گردوں نے القارہ اور دوسرے علاقوں میں اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے شہر "دیر عطیہ" کے عوام کو آزار و اذیت دینا شروع کیا ہے اور ان سے بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ ادھر شام کے رکن پارلیمان عصام خلیل نے کہا ہے کہ شامی افواج دہشت گردوں کا مقابلہ کرکے دہشت گردی کو ملک سے اکھاڑ پھینکنے کا ارادہ کئے ہوئے ہے۔ جبکہ علاقے کے بعض ممالک دہشت گردوں کو نقد رقم اور عسکری امداد دے کر شام کے مسئلے کے سیاسی حل کو ناکام بنانا چآہتے ہیں اور ان کی سازشیں جنیوا کانفرنس 2 میں شام کے مسئلے کے سیاسی حل کے لئے ہونے والی کوششوں کو نقصان پہنچائیں گی۔ حلب یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے استاد پروفیسر عبدالقادر عزوز نے العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: حلب میں نہتے عوام کی حالت کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر شامی افواج اپنی کاروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے؛ شامی افواج نے اس قسم کی جنگ اور دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے اور شہروں کو ان سے پاک کرنے میں زبردست مہارت حاصل کی ہے اور اب اس کی کاروائیاں بہت اعلی معیار کے ہوتے ہیں جن میں عام شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور ان کے گھر بار کو دہشت گردوں سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ دہشت گردوں نے فوجی کاروائیوں میں شکست کھانے کے بعد اپنی ناکامیوں کا ازالہ کرنے کے لئے حمص شہر میں میدان الحاج عارف کو مارٹر گولوں کا نشانہ بنا کر متعدد شہریوں کو شہید اور زخمی کیا ہے۔ شہر دمشق کی سلامتی کی صورت حال بہتر ہوگئی ہے اور شہریوں کی روزمرہ کی زندگی معمول کے مطابق ہے، بازار اور ٹریفک میں کوئی فرق نہيں آیا ہے اور عوام معاشی مشکلات کے باوجود معمول کے مطابق زندگی بسر کررہے ہیں۔ شامی افواج کے ذرائع نے کہا ہے کہ علاقے کے ممالک کی طرف سے دہشت گردوں کی لاکھ مدد کے باوجود ان کے خلاف کاروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔  ادھر گذشتہ ہفتے القلمون کے کوہستانی علاقے میں تحریر الشام نامی دہشت گرد ٹولے کا سرغنہ احمد عزالدین ابوبکر اپنے متعدد ساتھیوں سمیت ہلاک کیا گیا؛ حلب میں النیرب ائیرپورٹ اور التیارہ نامی چوٹی اور ان کے اطراف کا مکمل کنٹرول حاصل کیا گیا جبکہ اطراف میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو توپخانے کی گولہ باری کرکے تباہ کیا گیا اور فوج نے حلب میں ایئرپورٹ روڈ پر واقع ابن خلدون اسپتال کو دہشت گردوں سے واپس لیا۔  القلمون میں کاروائی کے بارے میں چہ میگوئیوں کے باوجود فوج نے حلب میں اپنی کاروائیوں کو جاری رکھا ہوا ہے جہاں النیرب ائیرپورٹ کے قریب المعامل اور المحالج نامی قصوبوں کا کنٹرول حاصل کیا گیا ہے اور سیف الدولہ محلے کو جبہۃالنصرہ کے دہشت گردوں سے واپس لیا کیا ہے۔  اس کاروائی میں 10 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ سرکاری افواج نے حلب جیل کی طرف بنائی جانے والی ایک سرنگ کا انکشاف کرکے اس کو تباہ کردیا ہے جہاں سے دہشت گرد جیل میں پہنچ کر اپنے قیدیوں کو رہا کرنا چاہتے تھے۔  ادھر درعا کے شہر الحارہ کی آزادی کے بعد اس شہر کے باشندے واپس آنا شروع ہوئے ہیں اور فوج نے اس شہر کے نواح میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرنے کا عزم کررکھا ہے۔  دوما شہر میں جیش الاسلامی نامی دہشت گرد تنظیم کے دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے۔ اور سلیخہ میں جبہۃالنصرہ کے درجنوں دہشت گرد ہلاک کئے گئے ہیں جبکہ گھات میں بیٹھے سرکاری فوجیوں نے بھی درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے اور جبہۃالنصرہ کے ایک گروپ کو بھی مکمل طور پر ہلاک کیا گیا ہے۔ مسلسل پسپائیوں کے بعد دہشت گردوں نے دمشق کے مشرقی نواحی علاقوں کو 20 مارٹر گولوں کا نشانہ بنایا اور اس حملے میں 2 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ میدان جنگ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سرکاری افواج کی طرف سے نہایت تیز رفتاری کے ساتھ شہروں اور قصبوں کو دہشت گردوں سے چھڑانے کے عمل نے دہشت گردوں کو ناگفتہ بہ صورت حال سے دوچار کیا ہے چنانچہ وہ سرکاری افواج کی کاروائی شروع ہوتے ہیں سب سے پہلے مورچے چھوڑ کر بھاگنے کے بارے میں سوچنا شروع کردیتے ہیں!۔ داعش کے چار برطانوی دہشت گرد شام میں ہلاک گوکہ عالمی دہشت گرد ایمن الظواہری نے داعش کو شام میں کاروائیاں کرنے سے منع کیا تھا لیکن اس تنظیم نے الظواہری سے بغاوت کرکے شام میں اپنی کاروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور جمعرات کی اطلاعات کے مطابق اس گروہ کے چار برطانوی اراکین بھی شامی افواج کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق یہ برطانوی دہشت گرد موسم گرما میں شامی افواج کی کاروائی میں کام آئے ہیں۔ ان دہشت گردوں میں ایک کا نام 23 سالہ محمد الاعرج تھا جو لندن کا رہائشی تھا اور اس کی دہشت گردانہ کنیت "ابو خالد" تھی جو اگست میں فوج کے لئے گھات لگانے والے دہشت گردوں کے ساتھ مورچہ بند تھا لیکن سرکاری افواج نے انہیں کسی قسم کا اقدام کرنے سے پہلے ہی نشانہ بنا کر ہلاک کردیا تھا اور باقی تین برطانوی اسی شخص کے ساتھ ساتھ ہوتے تھے اور یہ تین افراد ایک ہفتہ قبل حلب کے نواح میں فوجی کاروائی کے دوران 9 دوسرے غیرملکی دہشت گردوں کے ہمراہ ہلاک کئے گئے۔ ادھر اخبار ٹائمز نے لکھا ہے کہ برطانوی خفیہ ایجنسیاں شام جانے والے دہشت گردوں کو اپنی قومی سلامتی کے لئے خطرہ سمجھتی ہیں جبکہ 200 برطانوی دہشت گرد اس وقت شام میں لڑ رہے ہیں اور حال ہی میں ان کی تعداد میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ اکتوبر کے مہینے میں بھی شام سے واپس آنے والے دو دہشت گردوں کو لندن میں ایک دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جبکہ اس سے قبل ستمبر میں دو دوسرے دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا جن سے اسلحہ برآمد کیا گیا اور ان پر شام میں ایک دہشت گردی کیمپ میں تربیت حاصل کرنے کا الزام ہے۔ بی بی سی نے بھی ایک پورٹ مورتھ کے رہائشی 23 سالہ دہشت گرد کے اعترافات نشر کئے جو کہہ رہا تھا کہ وہ شام میں داعش کے ہمراہ حکومت شام کے خلاف لڑتا رہا ہے۔ شام کے کردوں نے النصرہ کے ایک دہشت گرد کو ہلاک کردیااطلاعات کے مطابق شام کے کردوں نے راس العین اور تل تمر کے درمیان واقع غیبش نامی گاؤں میں دہشت گرد تنظیم کے سرغنے کو ہلاک کردیا ہے جو راس العین، سری کانیہ اور تل ابیض میں جبہۃالنصرہ کی قیادت کرتا ہوا لڑا تھا۔ یہ شخص کرد مدافعین اور تکفیری دہشت گردوں کے درمیان جھڑپوں میں مارا کیا ہے۔ ایشیا نیوز اور کرد ذرائع نے اس شخص کا نام نہیں بتایا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭