اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے کی حفاظتی ٹیم کے کمانڈر شہید حاج رضوان فارس وہ شخصیت ہیں جنہوں نے خودکش دہشت گرد کو سفارتخانے میں داخل نہیں ہونے دیا اور اس کو گولی مار کر سڑک کی طرف دھکیل دیا۔ شہید حاج رضوان فارِس میسل الجبل میں پیدا ہوئے تھے اور جنوب لبنان کے رہائشی اور شہید صلاح فارس کے بھائی تھے۔ ادھر ایک سیکورٹی ذریعے نے موٹر سائکل سوار دہشت گرد کے حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ دو خودکش دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار تھے اور سفارتخانے کے قریب پہنچ کر ایک دہشت گرد گاڑی سے اترا اور بارودی جیکٹ کے ساتھ سفارتخانے کی طرف روانہ ہوا تاکہ دروازے پر خودکش دھماکہ کرکے گاڑی کے لئے سفارتخانے میں داخل ہونے کا راستہ کھول دے اور گاڑی میں بیٹھا دہشت گرد دھماکے کی آواز سننے کا منتظر تھا تاکہ اس کے بعد خود سفارتخانے میں گھس کر اپنے پلید مقصد کو عملی جامہ پہنائے۔ اس شخص نے دروازے کے ساتھ ہی خود کو دھماکے سے اڑا دیا لیکن دروازے حاج رضوان نے اس قدر مضبوط بنوائے تھے کہ دھماکے کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کو حاج فارس نے گولی مار دی چنانچہ اس نے سڑک پر ہی دھماکہ کردیا اور اس کے چار منٹ بعد گاڑی میں سوار دہشت گرد سڑک پر آیا جس کو دو غیر متوقعہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلی رکاوٹ ایک منرل واٹر سے بھرا ٹرک تھا جو پہلے دھماکے کے بعد وہیں رک گیا تھا اور اس کا ڈرائیور اتر کر بھاگ گیا تھا اور دوسری رکاوٹ جو اصلی ترین رکاوٹ ثابت ہوئی وہ سفارتخانے کی حفاظتی ٹیم کے سربراہ شہید حاج رضوار فارس تھے جو حاج رضا کے نام سے مشہور تھے جو پہلے دھماکے کے بعد پانچ دوسرے افراد کے ساتھ باہر آئے تھے اور انھوں نے بارود بھری گاڑی کی طرف فائرنگ کھول دی جس کی وجہ سے گاڑی بھی سڑک پر ہی دھماکے سے اڑگئی اور شہید حاج رضوان اپنے تین ساتھیوں اور بقولے 5 ساتھیوں کے ہمراہ جام شہادت نوش کرگئے۔
ایک رپورٹ اور نئے نکتے:٭ موٹر سائکل والے دہشت گرد نے دروازے کے پاس ہی دھماکہ کیا لیکن دروازہ حاج رضوان فارس نے مضبوط بنوایا تھا چنانچہ دروازہ نہیں ٹوٹا تاہم حاج رضوان فارس اپنے ساتھیوں کے ہمراہ باہر آئے اور دیکھا کہ گاڑی عمارت کی طرف آرہی ہے چنانچہ انھوں نے گاڑی پر فائرنگ شروع کردی اور گاڑی سڑک پر ہی پھٹ گئی۔ ٭ گوکہ کہا جاتا ہے کہ القاعدہ سے وابستہ عبداللہ عزام نامی دہشت گرد ٹولے نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن لبنان کے سیکورٹی ادارے اس بات سے اختلاف رکھتے ہیں کیونکہ انٹرنیٹ پر شیخ سراج الدین زریقات کی ہرزہ سرائی نہ تو عزآم گروپ کو ملوث ہونے کی تصدیق کرتی ہے اور نہ ہی اس کی تردید کا سبب بنتی ہے اور دوسری طرف سے عزام گروپ کبھی بھی کسی اور دہشت گرد گروپ کی کاروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ ٭ اہم نکتہ، جو فیس بک کے صارفین اور شام کے وزیر اطلاعات کے موقف کی تائید کرتا ہے: لبنانی سیکورٹی اداروں کو معتبر ذرائع سے معلومات ملی ہیں جن کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے کے سامنے ہونے والے دھماکوں سے چند روز قبل عبداللہ عزام گروپ کے ایک سعودی دہشت گرد "احمد السویدی" نے شام کے ایک حامی ملک کے سفارتخانے پر حملہ کرانے کی تیاری کررہا تھا۔ در ایں اثناء ایک دوسری رپورٹ کے مطابق معتبر ذرائع نے بتایا ہے کہ مزاحمت کے حامی ملک کے سفارتخانے پر دہشت گردانہ کاروائی کروانے کے لئے عبداللہ عزام کے ایک سرغنے "ماجد الماجد"، نے السویدی کے ساتھ ہمآہنگ ہو کر منصوبہ بندی کی تھی اور اس کا مقصد یہ تھا یہ حزب اللہ کو شام سے نکلنے پر مجبور کیا جاسکے اور مؤخرالذکر رپورٹ اول الذکر اور زمینی حقائق کے ساتھ ہمآہنگ ہے۔ الحاج رضوان فارس کے بارے میں ایک نکتہ جو کچھ زیادہ ہی اہم ہے: قابل ذکر ہے کہ الحاج رضوان فارس حزب اللہ کی صف اول کے مجاہدین میں سے تھے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے کی حفاظتی ٹیم کے کمانڈر تھے اور انھوں نے یہ ذمہ داری حزب اللہ کے شہید کمانڈر انچیف حاج عماد مغنیہ کی ہدایت پر قبول کی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
حزب اللہ: ہم بدلہ لینا جانتے ہیں/ اسرائیل ملوث ہے/ دھماکے سے تیل کے ڈالروں کی بو آرہی ہے











