19 نومبر 2013 - 20:30
جنیوا میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات

ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے ایٹمی مذاکرات کا تیسرا دور آج جنیوا ميں شروع ہورہا ہے۔

ابنا: ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف بھی  ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات میں شرکت کے لئے جنیوا گئے ہیں ۔ جناب ظریف  منگل کے روز اٹلی ميں ایک مختصر قیام کے دوران اپنے اطالوی ہم منصب کے ساتھ گفتگو کے بعد روم سے جنیوا کے لئے روانہ ہوگئے ۔ ان مذاکرات کے آغاز سے قبل اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر اور برطانوی وزیر اعظم نے ٹیلیفونک گفتگو میں ایٹمی مذاکرات سے متعلق مسائل پر تبادلۂ خیال کیا ۔ اس ٹیلیفونی گفتگو میں جناب حسن روحانی نے جنیوا مذاکرات کے عمل اور مذاکرات کے ابتدائی مراحل کے اچھے نتائج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ بعض ممالک کی جانب سے کھڑی کی جانب والی رکاوٹیں ، مذاکرات کی کامیابی کے عمل پر اثر انداز ہوں ۔صدر مملکت نے اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ توقع کی جارہی ہے کہ فریق مقابل بھی اپنے ٹھوس عزائم کا مظاہرہ کریں گے کہا کہ ہم کسی بھی طور پر اس مسئلے میں تفریق یا امتیازی سلوک کو تسلیم نہيں کریں گے اور ہم مذاکرات میں مساوات  اور باہمی احترام کی بنیاد پر فریقین کے منطقی موقف پر توجہ دیئے جانے کے خواہاں ہیں ۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر نے اسی طرح منگل کی سہ پہر کو اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ٹیلفونی گفتگو میں کہا کہ ایران ایک ایسے سمجھوتے کا خواہاں ہے جس سے اس امرکی نشاندہی ہو کہ اپنے مسلمہ قانونی حقوق کا دفاع کرتے ہوئے  پر امن ایٹمی پروگرام کو جاری رکھ سکے ۔ اس وقت مذاکرات کامجموعی عمل ، اعتماد کی بحالی کی بنیاد پر انجام پارہا ہے اس کے باوجود موضوع بحث ، اعتماد کی بحالی  ہے ۔ اعتماد کی بحالی دوطرفہ پہلو کی حامل ہے اور اسے ایران کے ایٹمی مسئلے میں ایران کے مسلمہ حقوق کے دائرے ميں انجام پانے کی ضرورت ہے ۔ لیکن اگر مغربی نقطۂ نگاہ سے اعتماد کی بحالی ، اصل موضوع یعنی ایران کے ایٹمی مسئلے کو بالکل نظر انداز کرنے کے مترادف ہوتو یہ موقف خود، ہر قسم کی اعتماد کی بحالی کو خراب کرنے کا باعث بنےگا ۔ اس بناء پر اس دائرے میں حاصل ہونے والے سمجھوتے کے حصول کی صورت میں یہ دیکھنا پڑے گا کہ کیا مغرب ، خود میں اس صلاحیت کو پاتا ہے کہ وہ چیز جو اعتماد کی بحالی جاری رکھنے کے لئے ضروری ہےاس پرعمل کرسکے ۔ اس صورت میں پہلا قدم یہ اٹھانا ضروری ہوگا کہ جو غیر منصفانہ پابندیاں ہیں انہیں ختم کیا جائے اور ایران کے منجمد بینک اکاؤنٹ کھولے جائیں ۔ اس بنیاد پر اگر فریق مقابل کا مقصد یہ ہو کہ اعتماد کی بحالی کے لئے کوئی راستہ نکالا جالا سکتا ہے تو اس صورت میں اس ہدف اور مقصد تک رسائی کی کیفیت  اور اسے ضمانت فراہم کرنے کےبارے ميں بھی کسی طریقۂ کار کے بارے میں  غور کرنا پڑے گا ۔ جیسا کہ قرائن و شواہد سے ثابت ہوتا ہےکہ جنیوا مذاکرات میں کچھ  پیشرفت حاصل ہوئی ہے تاہم اگر یہ پیشرفت، مذاکرات کے بعض فریق کے دباؤ اور دشمنانہ اہداف سے متاثر ہوجائے یا حد سے زیادہ توقعات ، بہانہ تراشی پر منتج ہوجائے تو صورتحال مسئلے کو مزید پیچیدہ بنادے گي ۔ ایران کے نقطۂ نگاہ سے مذاکرات ، باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر انجام پانے چاہئں کیوں کہ اس صورت میں کسی راہ حل کو مسلط نہیں کیا جاسکتا ۔ وہ چیز جو مسلم ہے یہ ہے کہ ایران نےاپنا مجوزہ پیکج جنیوا اجلاس کو پیش کردیا ہے جس پر فریق مقابل نے توجہ مبذول کرنےکے ساتھ ہی  اسے تعمیری قرار دیا ہے ۔ان تمام مسائل سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران ، ایٹمی مسئلے کی ایک پر امن راہ حل کے حصول کے لئے آمادہ ہے اور اس نے اپنا پہلا قدم نیک نیتی کے ساتھ اٹھایا ہے تاہم آخری اور حتمی راہ حل تک رسائی کے لئے فریق مقابل کے پر عزم ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ اس اقدام کی ، مذاکرات میں شامل تمام فریقوں کی شرکت سے تکمیل ہونی چاہئے ۔

.......

/169