12 نومبر 2013 - 20:30
مسلمانوں کے قبلہ اول کی تخریب و تقسیم کی سازش کا آخری مرحلہ!

یہودی ریاست کی صہیونی پارلیمان میں "یہودی گھر" نام تنظیم کے رکن نے دعوی کیا ہے کہ اردن کے ساتھ ساز باز کے معاہدے کے تحت یہودیوں کو مسجد الاقصی جانے کا حق حاصل ہے/ ادھر ایک فلسطینی سیاستدان نے کہا کہ یہودیوں کی طرف سے مسجدالاقصی میں نماز کی ادائیگی کا اعلان درحقیقت قبلہ اول کی تخریب اور نام نہاد معبد سلیمان کی تعمیر کے اعلان سے قبل کا مرحلہ ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مسجد الاقصی میں یہودیوں کی عبادت کی درخواست کا مطالبہ حال ہیں زور پکڑ گیا ہے جس کے تحت مسجد الاقصی کی زمانی اور مکانی تقسیم (Temporal and Spatial Partition) پیش نظر ہے۔ جس کا مقصد شاید یہ ہے کہ سال و ماہ اور دن کے اوقات بھی یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کئے جائیں اور مسجد کے بعض حصے یہودیوں کے سپرد کئے جائيں اور بعض مسلمانوں کے حوالے۔  ادھر صہیونی معاریو نے کہا انکشاف کیا ہے کہ صہیونی ریاست نے اردن میں اسلامی و عیسائی مقامات مقدسہ کے ادارے کے سربراہ "عبداللہ نصار" سے درخواست کی ہے کہ مسجد الاقصی میں یہودیوں کے داخلے کی اجازت دی جائے لیکن نصار نے اس یہودی درخواست کو مسترد کیا ہے۔ نصار نے کہا ہے: یہودیوں کو یہودی عبادات انجام دینے کے لئے مسجد الاقصی میں داخلے کی اجازت نہيں دی جائے گی اور اس مسجد میں ان کے داخلے کا سد باب کیا جائے گا۔ نصار نے اس یہودی درخواست کو مسجد الاقصی کی تقسیم کی کوشش قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ قدس شہر کو یہودیانے کے یہودی منصوبے کی کڑی ہے۔ اسرائیلی پارلیمان میں "یہودی گھر" نام تنظیم کے رکن "زبولون کلبا" نے اس موضوع کی طرف اشارہ کرکے دعوی کیا ہے کہ اسرائیل نے اردن سے کوئی درخواست نہیں کی ہے لیکن اردن کے ساتھ ساز باز کے معاہدے آرٹیکل 9 کے تحت فریقین پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کے باشندوں کو اپنے دینی اور تاریخی مقامات میں داخلے کی اجازت دیں اور اس معاہدے کے مطابق یہودیوں کو مسجد الاقصی جانے کا حق حاصل ہے۔ ادھر اردن کے وزیر اوقاف و اسلامی مقدسات "ہائل عبدالحفیظ الداؤد" نے قبل ازیں کہا تھا کہ اردن فیصلہ کن انداز سے قدس اور مسجد الاقصی کے سلسلے میں صہیونی ریاست کے تمام تر اقدامات اور قوانین کی منظوری وغیرہ کے خلاف ہے اور اس بل کو کسی صورت میں بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے جو صہیونی جماعتوں نے قدس شہر کو یہودیانے اور مسجد الاقصی میں یہودیوں کے داخلے کے لئے پارلیمان میں پیش کرنے کے لئے تیار کیا ہے۔ انھوں نے مسلمانان عالم کو خبردار کیا ہے کہ یہودیوں کے منصوبے قدس اور مسجد الاقصی میں اسلامی اوقاف کے اختیارات ختم کرکے اسلامی اوقاف و مقدسات کو یہودی ریاست کے حوالے کرنے کی سازش کا حصہ ہیں۔ انھوں نے کہا: صہیونی ریاست کو جاننا چاہئے کہ اس بل کے بارے میں سوچنا ہی آگ کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہوگا؛ اور چونکہ مسجد الاقصی ڈیڑھ عرب مسلمانوں کا قبلہ اول ہے لہذا صہیونی انتہا پسندوں کو جان لینا چاہئے کہ وہ مسجدالاقصی کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنا کر ایک عالمی دینی جنگ کا سامنا کرسکتے ہیں۔  انھوں نے کہا: دنیا کا کوئی بھی مسلمان قدس کی خاک اور مسجدالاقصی کی ذرہ برابر خاک سے بھی دستبردار نہيں ہوگا اور مسجد الاقصی کا دفاع ہر مسلمان مرد اور عورت پر واجب عینی ہے۔ قبل ازیں ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مسجد الاقصی کے انہدام سے قبل کا آخری مرحلہ آن پہنچا ہے۔ فلسطین کی اسلامی تحریک کے نائب سربراہ "کمال الخطیب" نے دو روز قبل العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے مسجد الاقصی کی زمانی اور مکانی تقسیم کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسجد الاقصی یہودیوں کا اہم ترین مسئلہ ہے اور وہ اپنے مقصد کے لئے نافذ العمل قوانین وضع کرنا چاہتے ہیں تاکہ قدس کو یہودی شہر بنانے کا ہدف حاصل کریں اور مسجد الاقصی میں یہودیوں کی نماز کا مطالبہ درحقیقت معبد سلیمان کی تعمیر کے آغاز کے لئے ہے۔ انھوں نے کہا: لیکوڈ پارٹی کے رکن پارلیمان میری ریگیف کی سربراہی میں صہیونی پارلیمان کے داخلی امور کے کمیشن کی طرف سے مسجد الاقصی میں خاص اوقات اور خاص حصوں میں یہودیوں کے داخلے کی تجویز درحقیقت انتہاپسند یہودی کابینہ کی پالیسیوں کا تسلسل ہے اور کابینہ تشدد پسند یہودی جماعتوں کے کنٹرول میں ہے۔ الخطیب نے کہا: صہیونی ـ یہودی رابیوں کے فتؤوں پر مسجد الاقصی کی تقسیم نام نہاد معبد سلیمان کی تعمیر کے آغاز سے قبل کا آخری مرحلہ ہے۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭