ابنا: لاہور پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مظہر عباس علوی نے کہا کہ جامپور، خانیوال اور حجرہ شاہ مقیم میں روایتی مجالس کے بانیان کو گرفتار کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر یہ مجالس پولیس کے ریکارڈ میں موجود نہیں ہیں جبکہ پنڈدادن خان میں روایتی جلوس کو روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اپنی نااہلی کو چھپانے کے لئے عزاداری کو خوفناک بنا کر پیش کر رہی ہے۔ راستوں کو بند کرکے خوف و ہراس پیدا کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ متنفر ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور سول انتظامیہ کے اقدامات سے لگتا ہے کہ دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کی بجائے عزاداروں کے مقابلہ میں آن کھڑی ہوئی ہے۔ علامہ مظہر عباس علوی نے کہا کہ حکومت محرم الحرام میں علماء اور مقررین کی تقاریر کی ریکارڈنگ پیش کرنے کو لازم قرار دے کر اہل تشیع سے امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے جبکہ تکفیری گروہ کو کھلے عام چھٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام میں علماء پر پابندی سے بھی عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بدامنی اور دہشت گردی صرف محرم الحرام کے جلوسوں کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتی۔ جی ایچ کیو، فوج، پولیس، عید میلادالنبی کے جلوس، مساجد، گرجا گھروں اور امام بارگاہوں پر حملے ہوتے ہیں تو کیا انہیں بند کر دیا جائے۔ عزاداری پر کوئی پابندی قبول نہیں کی جائے گی۔ شیعہ علماء کونسل کے رہنما نے کہا کہ عدالتوں سے سزا یافتہ مجرموں کی پھانسی کی سزاوں پر عمل کئے بغیر امن قائم کرنا ممکن نہیں۔ گوجرانوالہ میں ٹارگٹ کلنگ میں جاں بحق ہونے والوں کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں شیعہ سنی کا کوئی مسئلہ نہیں، دہشت گردی کو روکنے کے اقدامات کئے جائیں۔ ایک سوال پر علامہ مظہر عباس علوی کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان کو تسلیم نہ کرنے والوں سے مذاکرات کسی صورت قبول نہیں۔ پہلے انہیں ریاستی رٹ کو تسلیم کرنے پر آمادہ کیا جائے۔
.......
/169