6 نومبر 2013 - 20:30
ایران کے وزیر خارجہ کا دورۂ فرانس

اسلامی جمہوریۂ ایران اور فرانس کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں تہران اور پیرس کے دو طرفہ تعلقات نیز علاقائی و بین الاقوامی خاص طور پر ایٹمی مسئلے اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات اور اسی طرح شام کے مسائل کے بارے میں تبادلۂ خیا کیا گيا۔

ابنا: ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ، جو یونسکو کے 37 ویں اجلاس میں شرکت کے لئے  فرانس کے دورے پر ہیں ، اپنے فرانسسیسی ہم منصب لوران فابیوس کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ، ایران اور فرانس کے تعلقات کومثبت اور تعمیری قرار دیا اور دونوں ملکوں کے بہت سے مشترکات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فریقین کے سیاسی عزم و ارادے کے ذریعے دوطرفہ اور چند جہتی تعاون اور روابط کی راہ ميں حائل رکاوٹیں برطرف ہوجائیں گي ۔ جناب ظریف نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان نیویارک ، جنیوا اور ویانا میں ہونے والے مذاکرات کو تعمیری بتایا اور دونوں ملکوں میں پائي جانے والی تشویش برطرف کرنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  ،    پرامن ایٹمی ٹکنالوجی سے استفادے میں ایران کے حق کا احترام کئے جانے پر ضرورت پر تاکید کی ۔ ایران کے وزیر خارجہ نے اسی طرح شام کے بحران کے بارے میں غیر ملکی مداخلت اور بیرون ملک سے مسلط کی جانے والی راہ حل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران کا حل فوجی طریقے سے ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے اس مسئلے کے حل میں مدد کے لئے ایران کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے سیاسی طریقے سے اس بحران کے حل میں مدد کے مقصد سے یہ کوششیں جاری رہنے پر تہران کی آمادگي پر تاکید کی ۔ فرانس  کے وزیر خارجہ لوران فابیوس نےبھی دو طرفہ تعلقات نیز علاقائی تبدیلیوں منجملہ شام اور ایٹمی مسئلے کے بارے میں تہران کے ساتھ تبادلۂ خیال کے لئے پیرس کی دلچسپی، اور اس راہ میں حائل رکاوٹوں کے مقصد سے دونوں ملکوں کی مشترکہ کوششوں کو ، دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کے حل کے لئے مشترکہ عزم و ارادے کی علامت قراردیا۔ فابیوس نے بھی اسی طرح ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات پر نئی فضا حکفرما ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا ۔ فابیوس نے اسی طرح مذاکرات کے ذریعے ایٹمی مسئلے کے حل پر زور دیا اور کہا کہ ایران کو مکمل طور پر ایٹمی توانائی سے استفادےکا حق حاصل ہے ۔ ایران کے وزیر خارجہ منگل کی صبح کو پیرس کے لئے روانہ ہوئے تاکہ یونسکو کے 37 ویں عام اجلاس میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے نقطہ ہائے نگاہ بیان کریں ۔ یونسکو اجلاس پانچ نومبر سے بیس نومبر تک پیرس میں ہورہا ہے اور ڈاکٹر ظریف اس اجلاس کے مہمان خصوصی ہیں ۔ محمد جواد ظریف نےاسی طرح ایفری انسٹی ٹیوٹ کے اجلاس میں اپنی تقریر میں  ، دنیامیں دہشت گردی کے خطرات اورانتہا پسندی نیز  اس کے خلاف عالمی برادری کے اجتماعی اقدام اور اہتمام کی ضرورت اور عالمی امن و سلامتی کے قیام کے لئے بین الاقوامی سطح پر کوششیں بروئےکار لائے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ۔ جناب ظریف نے اس اجلاس میں ایران اور فرانس کے تعلقات ، ایران اور اس کے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اس کے تعلقات ، شام کے بحران ، دہشت گردی اور انتہا پسندی ، مسئلہ فلسطین اور مشرق وسطی ، ایران کے ایٹمی ہتھیار ، اسلامی بیداری اور عراق و افغانستان سے متعلق پوچھے گئے سوالوں کے جواب  دیئے ۔ ایران کے وزیر خارجہ نے فرانس کے چینل 24 کے ساتھ گفتگو میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان اس ہفتے اتفاق رائے ہونے کےامکان کی خبر دی ۔ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات اس ہفتے کے آخر میں جنیوا میں منعقد ہوں گے ایران نے دو ہفتہ قبل ایک پیکج پیش کیا ہے کہ جو فریقین کے لئے قابل قبو ل ہے ۔ جناب ظریف نے مزید کہا کہ گروپ پانچ جمع ایک کی جانب سے ایران کا اعتماد حاصل کرنا ضروری ہے کیوں کہ ایرانی عوام کو ان میں سے بعض حکومتوں  کی پالیسیوں پر مکمل اعتماد نہیں ہے ۔   

.......

/169