اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی حمایت یافتہ دہشت درندہ صفت دہشت گرد تکفیری تنظيم داعش مغرب کی طرف دی ہوئی مکمل آزاد فضا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آج کل انسان کا سر قلم کرنے کی تعلیم دے رہی ہے۔ ایک عرب قلمکار نے لبنانی اخبار "السفیر" میں چھپنے والے ایک مضمون میں انکشاف کیا ہے کہ داعش جو اپنی خواہش کے مطابق انسانوں کا خون بہانے کا حکم جاری کرتی ہے، انسانوں کا قتل عام کرتی ہے اور جو بھی چاہے زبان پر جاری کری ہے؛ سوال یہ ہے کہ اس دہشت گرد تنظیم کے افراد جدید ذرائع ابلاغ میں اپنے مخالفین کی صدا کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں؟ داعش ان صداؤں کو کس طرح خاموش کرے گی جن میں ہر روز اضافہ ہورہا ہے؟ کیا وہ انہيں نابود کریں گے؟ کیا وہ انہیں مٹا دینا چاہتے ہیں؟ لکھتا ہے: حقیقت یہ ہے کہ سائبر اسپیس میں "خلائی مخلوقات" پر حملہ "کارناموں کی سرزمین" یا وہی سرزمین جس کو داعش "سرزمین عراق و شام" کا نام دیتی ہے، سے شروع ہوا ہے؛ جس طرح کہ داعش ہر روز اپنے وجود کو روزمرہ خبروں، ذرائع ابلاغ، انسانوں کی نیند اور بیداری، ٹیلی ویژن کے اسکرینوں اور اخباری رپورٹوں پر مسلط کررہی ہے، مجازی فضا یا سائبر اسپیس پر بھی اس کی موجودگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ عرب قلمکار لکھتا ہے: دلچسپ امر یہ ہے کہ داعش اپنی سہیلی اور ہم رزم دہشت گرد تنظیم جبہۃالنصرہ ـ جو سیاسی اور ابلاغی لحاظ سے اس کے ساتھ برابری کرتی ہے ـ پر غلبہ پا چکی ہے اور خلاصہ یہ کہ داعش اپنی درندگی اور انتہاپسندی کی وجہ سے ابلاغی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سائبر اسپیس پر بھی اپنی انفرادی تصویر پیش کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے اور اب سب اس کی کارکردگیوں اور اس کے کرتوتوں کے بارے میں رپورٹوں تک رسائی رکھتے ہیں، جو بذات خود ایک نہایت خطرناک امر ہے بالخصوص اگر صارفین کے دلوں میں پہلے سے ہی دہشت گردی اور تشدد کا عنصر بھی موجود ہو۔ داعش نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ "عراق اور شام کی اسلامی ریاست" زندہ اور پائیدار ہے اور خدا کی مدد سے اللہ کے قوانین اسی تنظیم کے ذریعے نافذ ہونگے اور مسلمانوں کے غصب شدہ حقوق انہیں لوٹائے جائیں گے؛ تاہم داعش کہتی ہے کہ جو بھی ان کے ان مقاصد پر ایمان نہ رکھتا ہو وہ مطلقاً دشمن ہے؛ یہ جدید حملہ آور گو کہ اپنے آپ کو روایتی عناصر کے عنوان سے متعارف کرانا چاہتے ہيں لیکن وہ زمانے کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور اب ٹویٹر پر اس تنظیم کی سرگرمیوں کو کئی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے لیکن ان سب کا ہدف و مقصد ایک ہی ہے: "خلافت کا قیام!"۔ ٹویٹر میں ان پیجوں کے نام "اسلامی حکومت کے شیر"، "اسلامی حکومت کے باز"، "اسلامی حکومت کے انصار"، اور "ولایت شام" ہیں لیکن ٹویٹر پر داعش کا اصل نام "مؤسسۃ الاعتصام" ہے جس کا نعرہ ہے" "اعتصموا"۔ مؤسسۃ الاعتصام نے اپنا تعارف نہیں کرایا ہے اور صرف "اجناد" نامی اخباری ذریعے کی بنی بنائی رپورٹوں کی پیروی کرتا ہے۔ مؤسسۃالاعتصام کے پیج پر خاص قسم کے ترانے بھی دیئے گئے ہیں جیسے "میری امت سستی پذیر نہ تھی وغیرہ اور ابوالبراء المدنی جیسے جنگجؤوں کی تصویریں بھی دی گئی ہے۔ مؤسسۃالاجناد بھی داعش ہی کے اکاؤنٹ "دولۃ العراق والشام" کے نام پر چلنے والے ایک اکاؤنٹ کی پیروی کرتا ہے اور داعش کا یہ اکاؤنٹ ٹویٹر پر داعش کا فعال اکاؤنٹ ہے۔ داعش اس اکاؤنٹ پر اپنے تعارفی جملوں میں لکھتی ہے: شیر کہاں ہیں؟! (داعش کے نزدیک شیروں سے مراد مسلح عناصر ہیں)۔ داعش اپنی مختصر تمہید میں لکھتی ہے: ان شیروں کو ایک جست میں قید و بند کی زنجیریں توڑ دینی چاہئیں اور انہیں "جہاد" کرنا چاہئے۔ اس اکاؤنٹ کے فالوورز کی تعداد 60 ہزار تک پہنچی ہے اور البتہ اس کا واحد ہدف عراق اور شام میں خلافت تشکیل دینا نہيں ہے بلکہ اس کا ہدف تشدد پسندوں اور انتہاپسندوں کو اپنی طرف بلانا ہے۔ داعش کے اندرونی ضوابط کے تحت فیس بک پر اس ٹولے کو کام کرنے سے منع کیا گیا ہے اور فیس بک پر اس کے چند ایک اکاؤنٹس ہیں جن کے صارفین کی تعداد چند صد افراد سے زیادہ نہیں ہے۔ پس، داعش ایک خلائی سفینے یا کسی مزاحیہ فلم کا نام نہیں ہے بلکہ داعش کے نام کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ جو بھی جرات کرے اور دولۃالعراق والشام کے بجائے لفظ داعش استعمال کرے، اس کو 70 کوڑے مارے جائیں گے کیونکہ اس گروہ کا سرغنہ "شرعی" بورڈ اس نام کے استعمال کے خلاف ہیں۔ داعش کی ایک وزارت تبلیغ بھی ہے جو نعرے بناتی ہے جیسے: میک اپ نہ کرو، جینز مت پہنو، داڑھی مت مونڈھو، وغیرہ؛ یہ وزارت شرعی بورڈ کے حکم کے تابع ہے اور شرعی بورڈ درحقیقت فتوے بھی دیتا ہے۔ داعش کی وزارت تبلیغ سماجی ویب سائٹ پر اپنے فالوورز کو تعلیم دیتی ہے کہ وہ کس طرح مہربانی اور کے ساتھ انسان کا سر اس کے بدن سے الگ کریں؛ نیز انہیں سکھاتی ہے کہ کس طرح اسلام کی حکومت کی جنگ کہاں سے شروع ہوتی ہے اور آخر کا جنگ کی سرزمین کے دریچے اپنے صارفین کے لئے کھول دیتی ہے؛ صارفین کو سائبر اسپیس کی سڑکوں اور مختلف علاقوں کی سیر کراتی ہے تا کہ اپنے "مجاہدین" سے ان کا تعارف کرا دے۔ مضمون نگار آخر میں لکھتا ہے: داعش کا یہ سارا ڈرامہ بےشک، عام اور سادہ لوگوں کو دھوکا دینے کی روش اور تشدد پسندانہ رویوں کی ترویج ہے؛ کیونکہ یہ جماعت خوشیاں مناتے ہوئے اور مقدس نعرے بلند کرتے ہوئے بےگناہ انسانوں کے گلے کاٹتی اور قتل کرتی ہے اور اور اپنی ویڈیو تصاویر میں انتہائی ہولناک اور خونی مناظر دکھاتی ہے۔ آخری بات یہ کہ: اسلام یعنی حیات، قرآن یعنی سعادت ـ القاعدہ یعنی موت ـ داعش یعنی درندگی، طالبان یعنی دہشت؛ کیا اسلام دہشت کے ذریعے پھیلتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ وہی اسلام پیش کررہے ہیں اور اس کی وہی تصویر دنیا والوں کے پاس رکھتے ہیں جو امریکی، یہودی اور یورپی لابیاں پسند کرتی ہیں تا کہ اسلام دنیا پر اپنا پرچم نہ لہرا سکے۔ اسلام خونخواری کا نام نہيں ہے اور ان لوگوں کا دین حقیقتا اسلام نہیں ہے۔ یہ لوگ دہشت پھیلاتے ہیں تاکہ کفار و مشرکین آکر اسلامی ممالک پر قبضہ کریں اور مسلمانوں سے کہہ دیں "کہ ہم آپ کو درندگی اور دہشت گردی سے بچانے کے لئے آئے ہیں"۔
آپ ذرا سرچ انجنز پر "terror + islam" کو سرچ کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان دہشت گردوں نے اسلام کا خوبصورت چہرہ کس قدر بگاڑ رکھا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
شہر حسکہ اور 20 قصبوں میں دہشت گردوں کا صفایا/ دمشق میں بم دھماکہ
شام: جنیوا کانفرنس میں شرکت کے لئے پیشگی شرط نامنظور + کارٹون
روس: جنیوا 2 کانفرنس میں ایران کی شرکت ضروری ہے/ یو این: دہشت گرد تیار نہیں ہیں