اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کے وزیر اطلاعات عمران الزعبی نے جان کیری اور سعود الفیصل کی مشترکہ نیوز کانفرنس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ہم ہتھیار ڈالنے اور سر تسلیم خم کرنے کی غرض سے جنیوا نہيں جائیں گے؛ اگر سعود الفیصل جیسے افراد اور ہمارے بیرونی دشمنوں کی سوچ یہی ہے تو انہیں جان لینا چاہئے کہ صدر اسد بدستور شام کے صدر ہیں۔ انھوں نے کہا سعود الفیصل "بڑے ہارنے والے (Big Loser)" اور سب سے بڑے ناکام شخص ہیں۔ وہ آل سعود کی شکست خوردہ خارجہ پالیسیوں کو بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں؛ اور اس کا سبب یہ ہے کہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے آل سعود کی حکومت ہمیشہ سے اناڑی اور کم تجربہ کار تھی اور ہے اور اسی وجہ سے ان کی خارجہ پالیسی انہيں شکست کے دہانے تک پہنچاتی ہے۔ انھوں نے کہا: ال سعود کے وزیر خارجہ کی خیال پردازیاں مضحکہ خیز ہیں وہ سوچتے ہیں کہ گویا شامی عوام اور ملک شام کی قسمت اور مستقبل کا فیصلہ وہ کریں گے حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ سعود الفیصل کا طرز عمل خطے میں یہودی ریاست کی پالیسیوں کی گونج کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ عمران الزعبی نے کہا: ملک شام صرف حکومت کا ہی نام نہیں ہے بلکہ یہ ملک ایک قوم کا ملک ہے یہ ملک شامی عوام کا ملک ہے اور شامی عوام ہی اپنے سیاسی مستقبل اور ملک کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا: سعودی عرب کے لئے بہتر ہی ہے کہ عراق، شام، لبنان، الجزائر، لیبیا اور دوسرے اسلامی ممالک میں دہشت گردانہ پالیسیوں پر عملدرآمد ترک کردے اور بےگناہوں انسانوں کے قتل عام سے باز آئے۔ انھوں نے کہا: سعودی عرب میں اسلامی ممالک میں دہشت گردی کا ایک مفصل نظام موجود ہے اور سعود الفیصل اس نظام کے سیاسی کے سیاسی ونگ کے سرغنے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
4 نومبر 2013 - 20:30
News ID: 478617
حکومت شام کا کہنا ہے کہ اگر جنیوا 2 کانفرنس صدر بشار الاسد کی برطرفی کے لئے منعقد ہورہی ہے تو دمشق کی ترجیح اس کانفرنس میں عدم شرکت ہے/ سعود الفیصل شکست خوردہ ہیں/ سعودی پالیسیاں یہودی ریاست کی پالیسیوں کی صدائے بازگشت (گونج) ہی ہے۔