ابنا: 13 آبان مطابق چارنومبر1979 کو یوم طالبا کے موقع پر تہران میں نکلنے والی ریلی نے امریکی سفارتخانے کا رخ کیا اور سفارتخانے کے باہر ایک بڑا احتجاجی دھرنا دیا۔ اس دوران کچھ طلبا نے سفارتخانے کی دیوار پر بینرز اور پلے کارڈز نصب کرنے کے لئے چڑھنے کی کوشش کی تو عمارت کے اندر سے امریکی مسلح گارڈز نے ان پر فائرنگ کردی۔ جس کے بعد طلبا کا اشتعال بڑھ گیا اور انہوں نے کسی خطرے کی پرواہ کئے بغیر سفارتخانے میں گھسنے کی ٹھان لی۔سفارتی عملے نے کچھ دیرتومزاحمت کی لیکن پھر ہتیار ڈال دیۓ۔ انقلابی طلبا جونہی اندر پہنچے انہوں نے جو کچھ وہاں دیکھا وہ سفارتخانہ نہیں بلکہ جاسوسی کا ایک بڑا مرکز تھا۔ جاسوسی کے جو آلات وہاں نصب تھے ان سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہاں سے نہ صرف ایران کے اندر جاسوسی کی جارہی تھی بلکہ یہ نام نہاد سفارتخانہ پورے علاقے کی جاسوسی میں مشغول تھا۔امریکی سفارتخانے پر قبضہ کرنے والے ایرانی طلبا نے ساری دنیا میں امام خمینی کے پیرو مسلم طلبا کی حثیت سے شہرت حاصل کی اور اسی دن سے امریکی سفارتخانے کو جاسوسی کا اڈا کہا جانے لگا۔ایرانی طلبا نے 34 برس قبل امریکی سفارتخانے کا بھرم کھول کر رکھ دیا تھا اور دنیا والوں کو بتادیا تھا کہ جس عمارت پر ہم نے قبضہ کیا ہے وہ سفارتخانہ نہیں ہے بلکہ جاسوسی کا مرکز ہے۔ اس واقع کو تین عشرے زیادہ عرصہ گذرنے بعد آج ساری دنیا حتی امریکہ کے دوست اتحادی ممالک بھی چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ امریکہ نے سفارتخانوں کی آڑ میں جاسوسی کے مراکز قائم کر رکھے ہیں۔.......
/169