1 نومبر 2013 - 20:30
اکتوبر 2013 عراق کےلئے سب سے خونریز مہینہ

عراق کے مختلف شہروں میں اکتوبر 2013 میں رونما ہونے والے دہشت گردانہ واقعات میں ایک ہزارکے لگ بھگ بے گناہ عراقیوں کے مارے جانے کے سبب یہ مہینہ گذشتہ پانچ برسوں میں عراق کا سب سے خونریز مہینہ تھا ۔

ابنا: عراق کی داخلہ ، دفاع اورصحت کی  وزارتوں نے اعلان کیا ہے کہ اس سال اکتوبر کے مہینے میں عراق کے مختلف شہروں ميں دہشت گردانہ کاروائیوں ميں  964 عراقی شہریوں کے جاں بحق ہونے  کے سبب ،  2008 سے اب تک اس مہینے میں سب سے زیادہ جانیں ضائع ہوئی ہیں ۔ اس رپورٹ میں اسی طرح کہا گیا ہےکہ اکتوبر کا مہینہ، عراق کےدارالحکومت بغداد میں دہشت گردانہ حملوں کا مرکز تھا اس طرح سےکہ عراق کےمختلف علاقوں میں مارے جانے والے 964 عراقی باشندوں میں سے 411 بغداد کے شامل ہیں۔ عراق کے طبی اور سکورٹی ذرائع کی جانب سے اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد ، عراقی فورسیز نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس ملک میں 2003 سے اب تک ہونے والے 4000 دہشت گردانہ حملے ، غیر ملکی دہشت گرد عناصر نے کئے ہيں۔ اس بیان کےمطابق 2003 سے اب تک ، ہزاروں دہشت گرد عراق میں دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دینے کے لئے علاقے کے ملکوں منجملہ سعودی عرب ، اردن ، یمن ، مصر ، تیونس ، لیبیا ، قطر اور امارات سے عراق میں داخل ہوئے ہیں ۔ عراق کے سکورٹی عہدیداروں کے مطابق اس ملک کے بیشتر دہشت گردانہ حملوں میں نشانہ بنائے جانے والے عام شہری اور مذہبی افراد ہیں ۔ اغیار کی مدد وحمایت سے جاری ان حملوں میں تیزی آنے پر عراق کی سیاسی ومذہبی شخصیات  اور گروہوں نے کہا ہے کہ اس ملک سے خونریز واقعات کی لہر کی بیخ کنی کرنے اور  شہریوں کے درمیان اعتماد قائم کرنے کے لئے ایک طویل المدت اسٹریٹیجی کی ضرورت ہے اور ان حالات میں ضروری ہے کہ عراقی حکام اس ملک کے خلاف جاری دہشت گردانہ اور تخریبی اقدامات کے خاتمے کے لئے ٹھوس قدم اٹھائیں ۔ عراقی حکام نے عراق ميں سرگرم دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے بعض علاقائی ممالک منجملہ سعودی عرب اور قطر کو بارہا خبردار کرتے ہوئے ان ممالک سے مطالبہ کیاہےکہ وہ دہشت گرد گروہوں کی حمایت سے دستبردارہوکر عراق کے داخلی معاملات میں مداخلت سے بازآجائیں ۔ عراق میں سرگرم دہشتگرد عناصر سعودی عرب جیسے ملکوں کی حمایت سے ہمیشہ اس کوشش میں رہے ہیں کہ عراق میں اپنی دہشت گردانہ کاروائیوں میں تیزی لاکرعوام کی منتخب حکومت کا تختہ پلٹنے کے لئے حالات سازگار بنائیں ۔ سیاسی مبصرین ، عراق سمیت علاق کے بعض ملکوں میں رونما ہونے والی دہشت گردی کی نئی لہر کو امریکہ کی جانب سےایک منظم سازش قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے علاقائي حامی ملکوں کے تربیت یافتہ ان دہشت گردوں سےمقابلے کےلئے عراقی حکام ، سیاسی و مذہبی شخصیات اور عوام میں متحدہ عزم و ہمت کی ضرورت ہے ۔

.......

/169