ابنا: علامہ رمضان توقیر پاکستان کے مذہبی اور سیاسی حلقوں میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ بنیادی طور پر علامہ رمضان توقیر کا تعلق خیبرپختونخوا کے شورش زدہ شہر ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے۔آپ متحدہ مجلس عمل کے دور حکومت میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر تھے۔آپ ملت تشیع کے ایک متحرک رہنما اورشیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے صدر ہیں۔علامہ رمضان توقیر سے’’ شفقنااردو ‘‘نے پاکستان اور شام کے حالات پر خصوصی گفتگو کی ہے ۔
شفقنااردو: پاک فوج کے سینئر افسران کی شہادت کے بعد حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا منظرنامہ کیا ہو سکتا ہے؟
علامہ رمضان توقیر: ہم تو شروع دن سے کہ رہے ہیں کہ مذاکرات ایک ایسی چیز ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن کن لوگوں کے ساتھ،کن شرائط پربات کرنی ہے ،یہ موضوع بحث ہوسکتاہے۔مذاکرات کے بارے میں ہمارے ایک بھائی نے بیان دیا کہ اے پی سی کے بعد کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور دوسرے دن ہی ہمارے جنرل صاحب ہمارے ہاتھوں سے چلے گئے ۔ پاکستان پر قربان ہو گئے۔کتنے دھڑے ہیں طالبان کے، کتنی شاخیں ہیں ان کی،کتنی جڑیں ہیں ان کی اور کتنے گروپ ہیں،ہمیں تو سمجھ نہیں آرہی ، جو صورتحال سامنے آرہی ہے ،اس کے مطابق تو بغیر آہنی ہاتھوں کے بہت مشکل ہے کہ امن قائم ہو۔جو ان لوگوں کا نظریہ ہے،ان لوگوں کا ماضی ہے ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ذہن زنگ آلود ہو چکے ہیں۔بغیر آہنی ہاتھوں کے اور طاقت کے کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا۔
شفقنااردو:تو کیا آپ کے خیال میں پاکستانی قانون صرف غریب اور بے بس عوام کے لئے ہے کیونکہ خودکش اور بم دھماکے کرنے والوں کے ساتھ تو حکومت مذاکرات کرنے جا رہی ہے؟
علامہ رمضان توقیر: عملًا ایسا ہی نظر آرہا ہے ۔ہم نے ڈی آئی خان کی سرزمین سے ایک سالم نعش دی تھی خودکش حملہ آور کی،وہ رات کو دفن ہوئی اور صبح نعش غائب تھی۔زندہ خودکش حملہ آور،جو ہمارے ایک حسین نوجوان نے پکڑا تھاوہ شہید ہوگیا اور جس خودکش حملہ آور کو پکڑ کر دیا گیا تھاوہ غائب ہو گیا،کوئی اتہ پتہ نہیں کہ خودکش حملہ آور کہا ں چلا گیا۔یہ کہ حکومت کہے کہ ہمیں طالبان کا پتہ نہیںیا ان کے ٹھکانوں کا پتہ نہیں ۔یہ اپنی قوم سے اور اپنی عوام سے سراسر دھوکہ ہے۔سب کچھ حکومت کو پتہ ہے،ناموں کا بھی پتہ ہے،جگہوں کا بھی پتہ ہے ۔ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کونسی مجبوریاں ہیں کہ ان شدت پسندوں کے خلاف حکومت کاروائی کرنے سے قاصر ہے۔اسی ڈی آئی خان کے جیل پرجو حملہ ہواتھا انتہائی شرم آور داستان ہے۔ دہشت گردجلوس کی شکل میں آئے اور جلوس کی شکل میں چلے گئے۔
شفقنااردو:پاکستان میں ان دگرگوں حالات کا ذمہ دار کون ہے؟آخر کیوں حکومتی ادارے دہشت گردی روکنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں؟
علامہ رمضان توقیر: کس کس ادارے کا نام لیں۔،ہماری فوج کا سپاہی تو قربان ہو رہا ہے بے چارہ۔پولیس کے سپاہی قربان ہورہے ہیں ۔ ڈی آئی خان میں پولیس والے کہتے ہیں کہ ہم تو آمادہ تھے،ہمیں روکا گیا۔دہشت گرد چیک پوسٹوں پر آئے اور اپنے ساتھیوں کو چھڑا کر واپس چلے گئے۔عام سپاہی توقربان ہورہا ہے پولیس کابھی اور فوج کا بھی۔افسران بھی قربان ہورہے ہیں ابھی کل پرسوں کی بات ہے۔اب آپ خود ہی کہیں ذمہ دار کون ہے۔ہماری زبان میں تواتنی طاقت نہیں کہ ہم کچھ کہیں۔لاتعداد ارے ہیں لیکن اپنا فرض صحیح طریقے سے ادا نہیں کر رہے۔
شفقنااردو: آپ شام کے مسئلے پر کیا کہتے ہیں؟
علامہ رمضان توقیر: اللہ کا فضل ہے جو بڑھکیں لگا رہا تھا اب اس کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔ہماراتو پہلے دن سے موقف ہے کہ شام کے مسئلے کا حل شام کے عوام پر چھوڑا جائے۔وہاں کے عوام حق رکھتے ہیں کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں۔اگر ایک سازش کے ذریعے بیرونی قوتیں شام میں حالات خراب کریں تو یہ نہ بین الاقوامی قانون اجازت دیتا ہے اور نہ شرعاً،اخلاقاً کوئی جواز بنتا ہے۔عوام کو حق دیا جائے،رزلٹ کا انتظار کیا جائے اور فیصلے کو قبول کیا جائے۔
شفقنااردو:شام پر امریکی غصے کی اصل وجہ کیا ہے؟
علامہ رمضان توقیر:اصل وجہ تو میرے خیال میں وہ تکلیف ہے کہ عراق میں ایک کامیاب حکومت بن رہی ہے جو دن بدن مضبوط ہورہی ہے۔شام ہے ،لبنان ہے،پھرایران ہے،پاکستان کی سرزمین ہے اور افغانستان ہے۔یہ ایک پوری پٹی بنتی ہے جو امریکہ کے لئے نقصان دہ ہے اور ان کو صاف نظر آرہا ہے۔اسرائیل کو تحفظ دینے کے لئے اور حزب اللہ کو کمزور کرنے کے لئے ۔یہ جو پٹی ہے اس کوتوڑنے کے لئے ،تنہا کرنے کے لئے یہ سب کچھ ہو رہا ہے لیکن انشاء اللہ تعالی امریکہ اس میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
شفقنااردو:شام سے آخر اتنا خوف کیوں؟
علامہ رمضان توقیر:شام سے اتنا خوف نہیں ، اور لوگوں سے خوف ہے۔مثلاً ایران ہے۔
شفقنااردو:امریکہ کے صدر باراک اوبامہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام سے سنگین مسئلہ ایران ہے اور امریکہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔اس سے اسرائیل کو خطرہ ہے۔اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں کہ کیا امریکہ کا اصل ٹارگٹ ایران ہے؟
علامہ رمضان توقیر:میں نے پہلے ہی عرض کر دیا کہ نشانہ ایران ہے۔ایران کو کمزور کرنا چاہتے ہیں لیکن ایرانی عوام اور ایرانی حکمرانوں کی مخلصانہ پالیسیاں عالم اسلام کے لئے،مسلمانوں کے لئے اور انسانیت کے لئے ہیں۔تو اللہ تعالی کی مدد اور نصرت ایران کے ساتھ ہے ۔لہذا امریکہ کبھی اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
.......
/169