اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ الحاج ابوبکر خوجملی نے فضائل امیر المومنین علی (ع) کے بارے میں ریڈیو معارف پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجھہ بزرگ صحابہ میں سے ہیں اور رسول اسلام (ص) کے نزدیک خاص طور پر مورد توجہ واقع رہے ہیں۔ آپ بہت عظیم فضائل کے مالک ہیں جن میں سے بعض کی طرف یہاں پر اشارہ کرتے ہیں:حوزہ علمیہ محمدیہ کے پرنسیپل نے واضح طور پر بیان کیا: حضرت علی کی سب سے واضح خصوصیت یہ ہے کہ آپ اہلبیت(ع) اور خاندان نبی اکرم (ص) میں شامل ہیں اور خداوند عالم قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ’’ اے پیغمبر اپنی امت سے کہو کہ میں اپنے قرابتداروں کی محبت کے سوا تم سے کوئی اجر رسالت نہیں مانگتا‘‘۔انہوں نے کہا: حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضرت رسول خدا کے نزدیک ترین رشتہ داروں میں سے ہیں کہ جن کی محبت تمام مسلمانوں پر واجب ہے اور اہلسنت بھی آپ کی محبت کو اپنے اوپر واجب سمجھتے ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ اہلبیت سے محبت اور دوستی کشتی نوح اور کشتی نجات کے مانند ہے لہذا جس نے ان سے محبت رکھی خداوند عالم اس کو روز محشر نجات عطا کرے گا۔نگین شہر کے برادارن اہلسنت کے امام جمعہ نے مزید کہا: حضرت علی ابن ابی طالب کے فضائل کو بیان کرتے ہوئے رسول خدا(ص) کی اس حدیث کی طرف بھی اشارہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ نے فرمایا: «انا دارالحکمه و علی بابها» میں حکمت کا شہر ہوں اور علی اس کے دروازہ ہیں نیز آپ پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے رسول اسلام (ص) پر ایمان لایا اور حضرت علی کی ایک فضیلت یہ ہے کہ آپ کو جنت کی بشارت دی گئی تھی۔جناب خوجملی نے حضرت علی (ع) کے خلیفہ برحق اور جانشین رسول (ص) ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حضرت علی کے فضائل میں سے ایک فضیلت یہ ہے کہ آپ فاتح خیبر ہیں۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ فتح خیبر مسلمانوں کے لیے ایک معضل بن گیا تھا رسول خدا(ص) نے کئی مسلمانوں کو سردار لشکر بنا کر بھیجا اور پرچم ان کے ہاتھ میں دیا لیکن ان میں سے کوئی خیبر کو فتح نہ کر پایا۔ بالآخرہ رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ میں کل یہ پرچم اس کے ہاتھوں میں دوں گا جس کے ہاتھوں کے ذریعے خدا قلعہ خیبر کو فتح کرے گا اور خدا اس کو دوست رکھتا ہو گا۔ اس رات سب اس سوچ بچار میں تھے کہ آخر وہ کون ہو گا جسے کل رسول خدا (ص) پرچم دیں گے؟ دوسرے دن رسول خدا(ص) نے حضرت علی کو بلوایا کہا گیا کہ آپ آشوب چشم میں مبتلا ہیں۔ رسول خدا (ص) نے کسی کو بھیج کر حضرت علی کو بلوایا اس کے بعد رسول اسلام(ص) نے اپنے مبارک وجود اور مستجاب الدعوہ زبان سے حضرت علی کی آنکھوں کے لیے دعا کی تو ان کی آنکھیں شفایاب ہو گئیں اس کے بعد پرچم آپ کے ہاتھ میں دیا اور آخر کار خیبر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ہاتھوں فتح ہوا۔اہلسنت کے عالم دین نے آخر میں کہا: حضرت علی کے فضائل بے شمار ہیں کہ ہم اس مختصر فرصت میں انہیں نہیں گنوا سکتے۔ لیکن آپ کی ایک آشکار فضیلت یہ ہے کہ آپ کو ماہ مبارک رمضان میں شہادت نصیب ہوئی لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ تمام نیکیاں آپ کے وجود میں جمع ہیں اور مجھے امید ہے کہ ہم اہل سنت اور اہل تشیع سب آپ کو اسوہ حسنہ قرار دے کر آپ کے طریقہ کار پر چلیں اور اپنی زندگی میں آپ کے اخلاقی فضائل، سادہ زیستی اور عفو و درگذر کو مد نظر رکھیں اور انہیں اپنی عملی زندگی میں جگہ دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
25 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 475743
ایران کے صوبہ گلستان کے شہر ’’نگین شہر‘‘ کے امام جمعہ اور ’’پورجان‘‘ کے حوزہ علمیہ محمدیہ کے پرنسپل نے حضرت علی علیہ السلام کے فضائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حضرت علی بن ابی طالب بیشک خلیفہ برحق اور جانشین رسول خدا(ص) ہیں۔