21 اکتوبر 2013 - 20:30
دشمن،مکتب اسلام کی ترویج کے مخالف ہیں:ایک روسی دانشور

ایک روسی دانشورنے اس مطلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ دشمن مکتب اسلام کی ترویج کے مخالف ہیں،کہا ہے کہ اگرہم اہل بیت علیہم السلام کے پیروکار ہونے کا دم بھرتے ہیں توہمیں صحیح معنوں میں ان کا پیروکارہونا چاہیے۔

ابنا: ایک روسی دانشوراورمفکریوری قابیس اف نے گزشتہ رات ۲1اکتوبرکو جہرم کے شہید علی اکبررحمانیان نامی ثقافتی وآرٹ سنٹرکے اراکین کے اجتماع میں عشرہ ولایت کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے اکثرمسلمان اس ملک کے جنوب میں آبادہیں۔انہوں نے اس مطلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ماسکو میں فقط بیس لاکھ مسلمان ہیں،کہا ہے کہ اس علاقے کے اکثرمسلمان اہل سنت ہیں اورشیعہ اقلیت میں ہیں۔اس روسی دانشورنے اپنے شیعہ ہونے کی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال مجھے اسلامی انقلاب ایران کی کامیابی کے جشن میں ایران آنے کی دعوت دی گئی اوراس سفر کے دوران مجھے آیت اللہ سید مجتبی موسوی لاری کی کتاب"امامت" کا تحفہ دیا گیا۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد مجھے سمجھ آگئی کہ تشیع کے بارے بیان ہونے والے بہت سے مطالب صحیح نہیں ہیں۔قابیس اف نے کہا ہے کہ اس کتاب کے بعد میں نے آیت اللہ موسوی لاری کی دیگرکتب کا مطالعہ کیا اورمذہب تشیع قبول کرنے کے بعد میں نے ایران آکر ایک سال کی مدت میں فارسی زبان کوسیکھا۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ جب میں شیعہ ہوا توہمارے ملک میں تشیع کے بارے کوئی کتاب موجود نہیں تھی لیکن اب تقریبا ۲۰۰کتابوں کا روسی زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے۔روسی دانشوراورمفکر نے کہا ہے کہ انہوں نے مختلف موضوعات پر۱۳دینی کتب کا روسی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔انہوں نے اس مطلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ دشمن،مکتب اسلام کی ترویج کے مخالف ہیں، کہا ہے کہ اگرہم اہل بیت علیہم السلام کے پیروکارہونے کا دعویٰ کرتے ہیں توہمیں صحیح معنوں میں ان کا پیروکاربننا چاہیے۔

.......

/169