اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ریف دمشق میں جرمانا شہر کے مدخل میں نامیکو ہاؤسنگ کمپلیکس کے قریب فوجی چیک پوسٹ کے قریب بالفطرہ خونخوار دہشت گردوں کے کار بم دھماکے میں کئی افراد شہید اور زخمی ہوگئے ہیں۔ ادھر ایک اعلی فوجی اہلکار نے ذرائع کو بتایا ہے کہ غوطہ شرقیہ میں میدعا کے مقام پر جنگ کے آغاز پر ہی دہشت گردوں کی مواصلاتی لائنیں منقطع ہونگی۔ انھوں نے کہا غوطہ شرقیہ میں میدعا کے علاقے میں فوجی کاروائی شروع ہوتے ہی دہشت گردوں کی مواصلاتی لائنیں منقطع ہونگی اور یہ کاروائی عنقریب شروع ہونے والی ہے جہاں ریف دمشق کے آخری دہشت گرد دہشت گردانہ ٹھکانے واقع ہیں۔ العالم نے اطلاع دی ہے کہ الحسینیہ، الذیابیہ اور البویضہ میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرنے کے بعد جنوب دمشق میں بیت سحم کی دہشت گردوں سے صفائی کا عمل شروع ہوچکا ہے جہاں سرکاری افواج کی کاروائی میں شدید ضرب دہشت گردی کے پیکر پر وارد کی گئی ہے۔ العالم کے نامہ نگار مازن سلمو نے آج صبح رپورٹ دی ہے کہ بیت سحم کے علاقے میں سرکاری افواج کی کاروائی کے بعد فوج نے الحجیرہ کے علاقے میں دہشت گردوں کا محاصرہ کرلیا ہے اور فوج کے ایک اعلی کمانڈر "جامع جامع" کو دہشت گردانہ حملے میں شہید کئے جانے کے بعد افواج نے دیر الزور میں بھی اپنی کاروائیوں کو شدت بخشی ہے اور السخنہ، الطیبہ اور الراشدین میں جبہۃالنصرہ کے دہشت گردوں پر شدید حملے کئے ہیں۔ اس کاروائی میں فوج نے السخنہ کے مدخل میں النصرہ کی طرف سے کھڑی کی گئي رکاوٹوں کو منہدم کردیا ہے اور درجنوں اردنی، سعودی اور لیبیائی دہشت گردوں کو ہلاکت سے ہم کنار کردیا ہے۔ ریف دمشق میں بیت سحم اور الغربہ میں فوج نے عوامی دفاعی یونٹوں کی مدد سے دہشت گردوں کے باقیماندہ ٹھکانوں کا محاصرہ کرلیا ہے اور داریا کے علاقے سے القاعدہ کے غیرملکی دہشت گردوں کے فرار ہونے کے بعد الحجیرہ دہشت گردوں کے بڑے اڈے میں تبدیل ہوچکا تھا جس کا سرکاری افواج نے محاصرہ کرلیا ہے۔ ایک فوجی افسر نے کہا کہ فوجی کاروائیوں میں القاعدہ ـ بطور خاص النصرہ ـ کے درجنوں دہشت گرد کام آئے ہیں جن میں افغانستان، لیبیا، چيچنیا، سعودی عرب اور اردن سے آئے ہوئے دہشت گرد دکھائے دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ بیت سحم میں فوج کی کاروائی حرم سید زینب(س) کے اطراف میں امن و امان قائم کرنے کے لئے ہورہی ہے تاکہ حرم مطہر پر دہشت گردوں کے مارٹر حملوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔ فارس خبر ایجنسی کے مطابق ریف دمشق میں دہشت گردوں کے پاس محدود علاقہ رہ گیا ہے جس کو اب آزاد ہونا ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جو درحقیقت غوطہ شرقیہ میں دہشت گردوں کے درمیان مواصلاتی لائن کے طور پر استعمال کئے جارہے ہیں جن میں عدرا کے قریب میدعا کا علاقہ خاص طور پر قابل ذکر ہے جو دہشت گردوں کے لئے بہت زيادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس وقت فوج نے غوطہ کے دو علاقوں کا محاصرہ کرلیا ہے: اول: جنوب کی طرف سے شبعا فارمز میں دہشت گردوں کا صفایا کیا گیا ہے جہاں اب دہشت گرد موجود نہیں ہیں۔ دوئم: عدرا کے علاقے کی آزادی کے لئے کاروائی کی تکمیل کے ساتھ اس علاقے میں موجود دہشت گرد اشیاء خورد و نوش اور ہتھیاروں کی رسد سے محروم ہوجائیں گے اور اپنی آخری سانسیں یہیں لیں گے یا تو ہتھیار ڈالیں گے یا پھر لڑیں گے اور ان کی لڑائی خودکشی کے مترادف ہوگی۔ ان دو علاقوں سے غوطہ شرقیہ کا محاصرہ القاسمیہ اور البحاریہ کی آسان آزادی کے مترادف ہوگا۔ جبکہ شمالی دمشق میں عدرا میں فوجی کاروائي مکمل ہونے والی ہے اور تل کردی اور میدعا کی طرف پیشقدمی جاری ہے۔ شامی افواج کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ میدعا وہ واحد علاقہ ہے جس کو فوجی کاروائی کا انتظار ہے کیونکہ دہشت گردوں کے فرار کا واحد راستہ ہیں ہے اور میدعا کے بالکل قریب البحاریہ میں کاروائی شروع ہوچکی ہے اور شمال سے بھی فوجی دستے میدعا کی طرف حرکت کررہے ہیں کیونکہ میدعا دہشت گردوں کے لئے بہت زيادہ اہم ہے۔ اور النشابیہ کے علاقے میں سرکاری فوجوں کی کامیابی اور اس علاقے پر مکمل کنٹرول اس امر کی دلیل ہے کہ افواج نے اس علاقے میں دہشت گردوں کا صفایا کرنے کا اٹل ارادہ کرلیا ہے اسی بنا پر افواج نے دہشت گردوں کے اڈوں کا محاصرہ کرلیا ہے۔ جبکہ دہشت گردوں میں سے بہت قلیل تعداد باقی رہ گئی ہے اور باقی یا تو مارے گئے ہیں، یا ہتھیار ڈال چکے ہیں یا فرار ہوگئے ہیں۔ ادھر القاعدہ کے دو اعلی کمانڈر ابو مصعب المصری اور ابوحمزہ الشیشانی حمص کے علاقے میں فوجی کاروائی میں مارے گئے ہیں۔ مذکورہ دو افراد القاعدہ اور سعودی عرب سے وابستہ "دولۃالاسلامیۃ في العراق والشام" (داعش) کے کمانڈر تھے جو حمص کے علاقے تدمر میں مارے گئے۔ شامی افواج نے حالیہ ہفتوں میں حمص اور حلب میں بھی دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کاروائیاں کی ہیں۔
ادھر موصولہ اطلاعات کے مطابق الحجیرہ میں دہشت گردوں کے 120 افراد مارے گئے ہیں۔ شام کے عسکری ذرائع نے کہا کہ اس کاروائی کا مقصد سیدہ زینب(ع) کے اطراف کو دہشت گردوں سے خالی کرانا اور پرامن بنانا ہے۔ایک اعلی افسر نے ذرائع کو بتایا کہ سبینہ میں فوج کی پیشقدمی جاری ہے اور یرموک فلسطینی مہاجر کیمپ میں فلسطینی عوامی کمیٹیوں اور دہشت گردوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہورہی ہیں جس کے پیش نظر فوج کے لئے ضروری ہے کہ ححیرہ کی شاہرگ پر کنٹرول حاصل کرے۔ انھوں نے کہا کہ حجیرہ کو آزاد کرانے کے لئے ہونے والی کاروائی کے دوران دہشت گردوں کے درجنوں مورچے تباہ کردیئے گئے ہیں اور فوج سیدہ زینب اور سبینہ کے علاقوں سے حجیرہ میں داخل ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ فوج کے حجیرہ میں داخل ہونے پر دہشت گرد تنظیم جبہۃالنصرہ نے مختصر سی مزاحمت کرنے کے حجیرہ کے مرکز کی طرف پسپائی اختیار کی اور یرموک میں موجود دہشت گردوں سے مدد مانگی۔ اس افسر نے کہا کہ فوج نے شہر کے مرکزی میدان کے قریب دہشت گردوں کے دو اسلحہ و گولہ بارود کے گوداموں کو نشانہ بنایا جہاں بڑی تعداد بموں اور مختلف قسم کے گولوں کا ذخیرہ بنایا گیا تھا۔ اس کاروائی کے دوران المزرعہ کے قریب 30 دہشت گردوں کی لاشیں پائی گئیں۔ انھوں نے کہا حجیرہ کی لڑائی اپنے تیسرے دن میں داخل ہوچکی ہے اور فوجی دستے شہری جنگ کے عسکری فنون سے استفادہ کرتے ہوئے پیش قدمی کررہے ہیں اور شہر میں 120 دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔ انھوں نے حجیرہ کی کاروائی کے خاتمے کے لئے کسی تاریخ کا تعین کئے بغیر کہا کہ دمشق کے تمام نواحی علاقوں میں جاری کاروائی ایک ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/٭۔٭