اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے عید کے موقع پر قومی ٹیلی ویژن پر قوم سے تہنیتی خطاب میں عراقیوں کو مبارک باد دی اور کہا کہ عراق کے دشمنوں نے اپنے آپ کو شیطان کے ہاتھوں فروخت کررکھا ہے اور وہ عراق میں فتنہ پروری اور خانہ جنگی کی صورت حال پیدا کرنے کے درپے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان ممالک کے حکمرانوں کی شرانگیزیوں کے باوجود عراقی ملت نے صبر و بردباری، بصیرت و جہاد اور جانفشانی کا راستہ اپنا کر ان کی ان بھونڈی سازشوں کو ناکام بنایا ہے اور وہ عراقیوں کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی کوشش میں ہونے والی دہشت گردانہ سازشوں کا مقابلہ جاری رکھیں گے۔ انھوں نے کہا: تشدد اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر دہشت گردی کے دیو نے آج پورے خطے میں اپنے خونی پنجے گاڑھ لئے ہیں اور ہمارا ملک اس وسیع اور خطرناک سازش کے مرکز میں واقع ہوا ہے۔ المالکی نے کہا: ہماری سیکورٹی فورسز ہر روز دہشت گردوں کے گروپوں کا صفایا کرتی ہیں اور ان دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانے کی جدوجہد کررہی ہیں جو عراق میں تازہ جمہوری تجربے کو ناکام بنانے پر مأمور ہیں۔ واضح رہے کہ عراق کے پڑوس میں سعودی عرب سمیت خلیج فارس کی ساحلی عرب ریاستوں میں بادشاہتیں اور امارتیں چل رہی ہیں، اردن میں بادشاہت ہے اور ترکی میں اخوانی جمہوریت در حقیقت سلطنت عثمانیہ کے احیاء کے خواب دیکھ رہی ہے چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ عراق میں جمہوریت ان ممالک کو ایک آنکھ نہيں بھاتی۔ امریکہ بھی عراق میں ہمیشہ کے لئے رہنے کے لئے آیا تھا لیکن عراقی جمہوریت کے نتیجے میں اس کو بھی جانا پڑگیا چنانچہ امریکیوں اور امریکیوں کے یورپی حاشیہ برداروں کو بھی جمہوریت کے نعروں کے باوجود یہیں جمہوریت پسند نہيں ہے جیسا کو انھوں نے مصر میں جمہوریت اور انقلاب کی بساط لپیٹ لی ہے تاہم وہ عراق میں ایسا کرنے سے عاجز ہیں چنانچہ وہ جمہوریت کے مقابلے ميں خونی کھیل کھیل رہے ہيں تاکہ عراقی عوام ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھائیں اور اس بڑے عرب کی قسمت کا فیصلہ بھی خوردبین سے نظر آنے والی ریاستوں کے ہاتھوں میں چلا جائے لیکن عراقی عوام 10 سال کے عرصے سے ان کی سازشیں ناکام بناتے آئے ہیں۔ عراقی وزیر اعظم نے کہا: عراقی کی حکیمانہ پالیسیوں ی وجہ سے عالمی برادری اس ملک کو اعتماد اور احترام کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور یہی بات علاقے میں بعض حکمرانوں کی دشمنی کا سبب بنی ہوئی ہے حالانکہ عراق کسی بھی دوست اور برادر ملک کا دشمن نہيں ہے بلکہ تمام ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی اور باہمی احترام و اعتماد اور دوطرفہ مفادات کے تحفظ کا خواہاں ہے اور ہم مشکلات کے خواہاں نہيں ہيں۔ انھوں نے عراقی عوام سے اپیل کی کہ وہ سیاسی، گروہی، جماعتی اور قبائلی مسائل کو عوام کی امن و سلامتی اور معیشت پر مقدم نہ رکھیں اور قومی ذمہ داری کا ثبوت دیں۔ عراق: سعودی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم کے 10 ٹھکانے تباہ 176 افراد گرفتار عراقی فوج اور سیکورٹی اداروں نے حفظ ما تقدم کے تحت دہشت گردوں کے 10 خفیہ ٹھکانوں پر دھاوا بول کر "دولۃ الاسلامیۃ في العراق والشام" (داعش) کہلوانے والی سعودی حمایت یافتہ دہشت کرد تنظیم کے 176 دہشت گردوں کو ایک ساتھ گرفتار کرلیا ہے۔ سرکاری فورسز نے صوبہ صلاح الدین اور صوبہ نینوا میں سراغ لگا نے کے بعد یکے بعد دیگرے دہشت گردوں کے 10 خفیہ ٹھکانوں کو تباہ کردیا۔ عراقی ٹیلی ویژن نے بندر بن سلطان کے زیر سرپرستی شام اور عراق میں "دہشت گردی کے مقدس وہابی پیشے" میں مصروف دہشت گرد ٹولے داعش کے خلاف ہونے والے علاقوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یہ کاروائیاں خاص طور پر ایمن، الطین، بیچی اور سامرا میں دریا کے کناروں پر نیز صوبہ نینوا کے علاقوں القصیر اور النمرود میں فوج اور سیکورٹی اداروں کے توسط سے انجام پائیں۔ عراقی فورسز نے اس دوران دھماکہ خیز پیک بناے کا ایک کارخانہ تباہ اور مقناطیسی بموں اور سی 4 دھماکہ خیز مواد کا ایک بڑا ذخیرہ برآمد کرکے ضبط کیا۔ ان کاروائیوں کو عراقی مسلح افواج کے کمانڈوز نے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے شام کی سرحدوں کے قریب جاری رکھتے ہوئے شام فرار ہونے کی کوشش کرنے والے داعش کے 13 دہشت گردوں کو گھیر ليا جن میں سے آٹھ مارے گئے اور 5 گرفتار کرلئے گئے اور شام کی سرحد کے قریب صحرائے القعرہ میں داعش کی چھ گاڑیوں کو تباہ کردیا۔ واضح رہے کہ اطلاعات کے مطابق بغداد کے شمال میں القاعدہ سے وابستہ اور آل سعود کے حمایت یافتہ ٹولے کا بڑا اڈہ موجود ہے اور یہ دہشت گرد کرکوک کے جنوبی علاقے پر قبضے کی خاطر انصار السنہ نامی دہشت گرد گروہ کے خلاف برسر پیکار ہے۔واضح رہے کہ اطلاعات کے مطابق بغداد کے شمال میں القاعدہ سے وابستہ اور آل سعود کے حمایت یافتہ ٹولے کا بڑا اڈہ موجود ہے اور یہ دہشت گرد کرکوک کے جنوبی علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ اسی علاقے میں انصار السنہ نامی تنظیم بھی سرگرم ہے اور بدھ کے دن کرکوک کے جنوبی علاقوں الریاض اور الرشاد میں ان دو گروہوں کے درمیان شدید لڑائی میں فریقین کے درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
دہشت گردوں نے عید کی خوشیوں کو ماندکردیا
شامی عوام اور مسلح افواج کی حمایت کے لئے کلک کریں اور نام، ایمیل ایڈریس اور سائن کریں۔ یہ میرا اور آپ کا فرض ہے اور حمایت کی نازل ترین صورت