13 اکتوبر 2013 - 20:30
حلب کے قبائل کی داعش کے سرغنے کے ہاتھ پر بیعت کی تردید/ داعش کا فرانسیسی کمانڈر ہلاک

حلب کے بڑے قبائل کے عمائدین نے دہشت گرد ٹولے داعش کے ہاتھ پر اپنی بیعت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے ابوبکر البغدادی صرف ایک موہوم شخص ہے اور اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ داعش کا دوسرا فرانسیسی سرغنہ ابو فلپ لاذقیہ کے نواح میں سرکاری دستوں کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا ہے۔/ ناکام دہشت گرد عوام کے قاتل/ ادلب میں بم دھماکوں میں متعدد افراد شہید۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حلب کے بڑے قبائل کے عمائدن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حلب میں صرف بعض چھوٹے قبائل باقی رہ گئے ہیں اور حلبی قبائل کی مطلق اکثریت سیرین عرب آرمی کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ایشیا نیوز کے مطابق ریف حلب کے اکثر قبائل دہشت گردوں کے دسترس سے باہر ہیں اور وہ دہشت گردوں کی جارحیت کا راستہ روکے ہوئے ہیں اور اپنے علاقوں کی حفاظت کررہے ہیں؛ وہ شام کی سرکاری افواج کا انتظار کررہے ہیں اور کبھی بھی کسی بیرونی حکومت یا کسی گروپ کے سامنے سر تسلیم خم نہيں کریں گے۔  ایشیا نیوز کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرنے والے عمائدین نے داعش کے ساتھ قبائل کے اکابرین کی بیعت پر مبنی ویڈیو کی تردید کرتے ہوئے کہا: یہ ویڈیو جعلی ہے اور اگر یہ درست ہے کہ انھوں نے بغدادی ملعون کے ساتھ بیعت کی ہے تو ان قبائل کا نام کیوں نہیں لیا گیا جنھوں نے بیعت کی ہے اور ان کے ز‏عماء کا نام کیوں نہيں لیا گیا؟  انھوں نے کہا: ویڈیو میں داعش کے سرغنے ابوبکر البغدادی کو امیرالمؤمنین کے لقب سے پکارا جاتا ہے جبکہ ہماری اطلاعات کے مطابق ابوبکر البغدادی ایک خیالی شخصیت ہے جس کا کوئی وجود نہيں ہے اور داعش کے اراکین کرائے کے جلاد اور قاتل ہیں جو حلب کے قبائل کی خدمت کی نیت سے اس علاقے میں نہيں آئے ہيں بلکہ وہ عرب اور اسلامی امت کے دشمنوں کی خدمت کے لئے آئے ہیں۔  واضح رہے کہ داعش کے تکفیری گروپ کے حامی ذرائع اور ویب سائٹوں نے حالیہ ایام میں بعض تصاویر اور ویڈیو کلپس شائع کرکے دعوی کیا کہ حلب کے قبائل کے تین گروپوں نے داعش کے سرغنے کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور دہشت گردوں کو ضیافت دی ہے۔ دعوی کیا گیا ہے کہ یہ تین قبائل سب سے اہم اور بڑے قبائیل ہیں جن کا تعلق حلب، الرقہ اور الحسکہ سے ہے جنہوں نے داعش اور اس کے امیر ابوبکر البغدادی القرشی کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔ داعش نے اعلان کیا تھا کہ داعش نے نمائندے نے حلب کے قبائل سے ابوبکر البغدادی کے لئے بیعت لی ہے۔ اور یہ کہ اس نے بیرونی قوتوں کے اقتدار کے حوالے سے شامی عوام کی تشویش دور کرتے ہوئے کہا کہ "امیرالمؤمنین" (یعنی ابوبکر البغدادی) نے یقین دہانی کرائی ہے کہ شام پر شامیوں کے ساتھ کوئی حکومت نہيں کرے گا اور شام کو فتح کرنے کے بعد انصار (یعنی اہل شام) میں اس ملک کا امیر مقرر کیا جائے گا اور جن صوبوں میں کوئی باصلاحیت شامی حکومت کے لئے موجود نہ ہو تو مہاجرین میں سے کوئی فرد حکومت کرے گا اور اس کا نائب انصار میں سے ہوگا۔ داعش کی طرف سے نشر ہونے والے ایک کلپ میں دکھایا جاتا ہے کہ ان تقاریر وغیرہ کے بعد مقبوضہ شامی علاقے کے بعض لوگ البغدادی کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں اور نام نہاد امیرالمؤمنین کے فرامین کے نفاذ کے وعدے دے رہے ہیں۔ لیکن اس بات سے غفلت برتی گئی ہے کہ داعش کے افراد مسلح اور حملے کی پوزيشن میں اور اکٹھے کئے جانے والے عوام نہتے شامی افراد ان کے محاصرے میں تھے۔ متعلقہ ویڈیو کلپ میں ایک شخص کو دکھایا جاتا ہے جو چمڑے کے ایک دسترخوان پر لوہے اور ہتھیاروں میں ڈوبے ہوئے دہشت گردوں کو کھانا کھانے کی دعوت دے رہا ہے۔ گویا کوئی بھی یہ اندازہ نہیں لگا جاسکتا کہ یہ غیر مسلح افراد مسلح اور بےرحم داعش کے دہشت گردوں کی اطاعت کی حامی نہ بھریں تو کیا کریں؟ادھر شام کے عسکری ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ لاذقیہ کے نواح میں دروشان نامی شہر میں سکاری فورسز اور داعش کے دہشت گردوں کے درمیان شدید لڑائی کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں جن میں القاعدہ سے وابستہ داعش گروپ کے فرانسیسی کمانڈر ابوفلپ نیز عراقی دہشت گرد "عبدالسلام التکریتی"، "ابو عثمان البغدادی"، اور سعودی دہشت گرد "ابو عارف الطائی"، "ابو داؤد الحجازی"، "عبداللہ إبراہيم الدخيل" المعروف "أبوطلحہ القصيمي" اور "فہد سعيد الأسمری" المعروف "أبو بكر الأزدی" شامل ہیں۔ واضح رہے کہ قبل ازیں ریف حلب میں واقع قصبے "السفیرہ" کے علاقے میں بھی ہونے والی جھڑپوں میں خطرناک فرانسیسی دہشت گرد ابو محمد الشامی المعروف "ابو القعقاع الفرنسی" مارا گیا تھا۔

تفصیلی خبر:

سرکاری افواج کی مسلسل پیشقدمی/ درجنوں دہشت گرد ہلاک؛ داعش کا فرانسیسی کمانڈر ہلاک

ناکام دہشت گرد عوام کے قاتل/ ادلب میں بم دھماکوں میں متعدد افراد شہیدادلب شہر میں دو کار بم دھماکوں میں 60 شامی باشندے شہید اور 100 زخمی ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آج جسرالشغور نواح میں درکوش کے علاقے میں ایک کار بم دھماکے میں 60 افراد شہید اور 100 زخمی ہوئے ہيں جن میں سے بعض افراد کی شناخت ہوسکی ہے جبکہ بعض شہداء زخموں کی شدت کی وجہ سے شناخت کے قابل نہيں ہیں۔ شہداء کی تعداد میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ادھر تلفیتا نامی شہر جبہۃالنصرہ کے دہشت گردوں سے آزاد کرالیا گیا اور ریف دمشق کے علاقے القلمون واقع اس شہر کی آزادی کے بعد علاقے کے عوام نے شامی افواج کا والہانہ استقبال کیا۔ سرکاری افواج نے اس علاقے میں وسیع کاروائیوں کے اپنے منصوبے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے اور اطراف کے دیہاتوں میں دہشت گردوں کی بڑی تعداد تعینات ہے۔ سرکاری افواج نے تلفیتا کو جبہۃالنصرہ کے بےشمار دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے بعد آزاد کرایا۔ ایک سرکاری فوجی اہلکار نے العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: ہم اس علاقے میں آئے ہیں تاکہ عوامی کمیٹیوں، قومی دفاع کی فورسز اور محترم عوام کے تعاون سے یہاں امن و استحکام قائم کریں۔ دوسرے اہلکار نے کہا کہ تلفیتا کے علاقے میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا کیا گیا ہے اور امن بحال ہوچکا ہے اور باقیماندہ دہشت گرد پہاڑوں کی طرف فرار ہوگئے ہیں۔ القلمون کی جنگ، علاقے میں مسلح دہشت گردوں کی بڑی تعداد موجود ہونے، لبنانی سرحدوں کے قریب ہونے اور علاقے کے کوہستانی ہونے، کے بموجب اہم ترین جنگوں ميں شمار ہوتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

/٭۔٭

دمشق کے مرکز میں شام کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے قربب دو کار بم دھماکے