13 اکتوبر 2013 - 20:30
امام زمانہ(ع) نے تو اپنے بعد راویوں سے صرف روایت پیش کرنے کو کہا نہ اپنے فتوے دینے کو؟

Aip na sawal ki adah javib diya hai mola (a.s) kay farman kay matibaq khew nee fitwah datay imam asar(a.s) ka farman hai hum allah ke tarif say in pir hujat hai ya humari tarif say tum pir hujat hai jo humari hadees aur rovait pash kiry ib aip khud dakhay jo vaziyah farman hai iss ko katt kir apnah hukim khew jari kirtay hai

ابنا: علیکم السلاماگر عوام کے ہر سوال کے جواب میں آیت یا روایت پیش کر دی جائے تو کیا عوام کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا اور وہ قانع ہو جائیں گے؟ اور کیا تمام سوالات اور مسائل کے جوابات آیات و روایات میں موجود ہیں اور ہر مسئلہ پر ایک آیت یا روایت موجود ہے جسے پیش کر دیا جائے اور خود سے فتویٰ دینے کی ضرورت نہ پڑے؟پھر کس نے آپ سے کہ دیا کہ مجتہد مولا کے فرمان کو کاٹ پر اپنا فتویٰ دیتا ہے؟ فقہ شیعہ میں فتویٰ دینے کے چار منابع ہیں قرآن، سنت، عقل اور اجماع۔ کوئی مجتہد ان منابع سے ہٹ کر فتویٰ نہیں دے سکتا جن مسائل کا حکم آیات و روایت میں موجود ہوتا ہے ان میں فتویٰ دینے کی ضرورت نہیں ہوتی فتویٰ وہاں دیا جاتا ہے جہاں کسی مسئلہ کا حکم آیات و روایات میں نہیں ملتا۔ وہاں مجتہد عقل، اجماع علماء، دیگر قرآئن و شواہد اور اصول عملیہ وغیرہ کی روشنی میں مسئلہ کا حکم بیان کرتا ہے امام زمانہ (ع) کی ’’رواۃ حدیث‘‘ سے مراد اگر صرف حدیثیں پڑھنے والے ہوتے تو امام ’’حوادث واقعۃ‘‘ کی تعبیر استعمال نہ کرتے یعنی جدید پیش آنے والے واقعات۔ اس لیے کہ جدید پیش آنے والے واقعات میں صرف حدیثیں پڑھ کر سنانے والے جوابدہ نہیں ہو سکتے جدید واقعہ وہ ہے جو ائمہ کے دور میں پیش نہ آیا ہو اور جو واقعہ پیش نہیں آیا اس کے بارے میں کوئی حدیث بھی بیان نہیں ہوئی تو حدیث پڑھنے والا ایسے واقعہ میں کہاں سے حدیث لائے گا اگر وہ اس کے مشابہ حدیث سے حکم نکال کر بیان کرے گا تو وہ مجتہد کہلائے گا نہ حدیث بیان کرنے والا۔ لہذا امام زمانہ (ع) کی رواۃ حدیث سے واضح طور پر مراد فقہا اور مجتہدین ہیں نہ صرف راویان حدیث۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲مربوطہ لینکسمجتہدین کے درمیان اختلاف کیوں پایا جاتا ہے؟