ابنا: ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کنٹرول لائين پر پیش آنے والی کشیدگي کے پیش نظر ہندوستان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان اس وقت ایسی حالت میں نہیں ہیں کہ مذاکرات شروع کرسکیں۔ارنا کی رپورٹ کے مطابق سلمان خورشید نے نئي دھلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئي دھلی اور اسلام آباد اب ایسی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ مذاکرات شروع کرسکیں کیونکہ کشمیر کنٹرول لائن پر پیش آنے والی صورتحال مایوس کن ہے۔ سلمان خورشید نے کنٹرول لائن کے واقعات کو قیام امن کے عمل میں رکاوٹ قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ پینتیس سے چالیس علیحدگي پسندوں نے ہندوستان میں دراندازی کی تھی جسے فوج نے پندرہ دن کے آپریشن میں ختم کردیا۔ ہندوستانی وزیر خارجہ نے کہاکہ کشمیر کنٹرول لائين پر کشیدگي باقی ہے۔ سلمان خورشید نے کہا کہ اگرچہ گذشتہ ماہ دونوں ملکوں کےوزرا اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی لیکن اس ملاقات میں تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے پر کسی طرح کا اتفاق نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے دونوں ملکوں کےتعلقات میں بہتری لانے کے اشاروں کا خیر مقدم کیا۔ قابل ذکرہے اگست کے مہینے میں کشمیر کنٹرول لائین پر ہندوستان کےتین فوجیوں کی ہلاکت کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں شدید کشیدگي آگئي تھی اور اسکے بعد دونوں طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئي ہے۔ ہندوستان کا الزام ہے جنگ بندی کی مخالفت پاکستان کی فوج کررہی ہے۔ جبکہ پاکستان اسی قسم کے الزامات ہندوستان پر لگا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
12 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 471835
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کنٹرول لائين پر پیش آنے والی کشیدگي کے پیش نظر ہندوستان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان اس وقت ایسی حالت میں نہیں ہیں کہ مذاکرات شروع کرسکیں۔