اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مستقل شامی ہیومین رائٹس واچ کی ویب سائٹ نے شامی تجزیہ نگار کے حوالے سے کہا ہے کہ اعصاب مفلوج کرنے والی گیس القاعدہ سے وابستہ عراقی تکفیریوں نے شام منتقل کی تھی۔ عراقی تجزیہ نگار نے مذکورہ تنظیم سے بات چیت کرتے ہوئے اپنا نام فاش نہ ہونے کی شرط پر، کہا کہ سیرین گیس ایران ـ عراق جنگ کے دوران صدام کی فورسز نے تیار کرکے ایرانی افواج اور عراق اور ایران کے بعض شہروں پر استعمال کی تھی اور یہ گیس عراق کے کیمیاوی ہتھیاروں کے پروگرام کے تحت "ڈاکٹر فہد الدانوک" کے زیر نگرانی تیار ہوئی تھی۔ تجزیہ نگار کے بقول الدانوک تحقیقات و مطالعات گروپ کے دائرے میں کام کررہا تھا اور یہ گروپ تکفیری گروپوں سے وابستہ تھا۔ اس گروپ کی سرگرمیوں کا مقام المثنی تنصیبات سے وابستہ تحقیقاتی ہال تھا جو عراقی شہر سامرا سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مذکورہ تجزیہ نگار و محقق نے کہا: اس مقام پر بظاہر گندم کے زہریلے دانے اور زہریلا کیمیاوی مواد تیار کیا جاتا تھا جو کیمیاوی کھاد کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن یہ سب پردہ پوشی کے لئے تھا اور حقیقت یہ تھی کہ وہ وہاں ممنوعہ گیسیں اور ممنوعہ کیمیاوی اور زہریلے مواد کو تیار کیا جاتا تھا اور یہ مواد صدام کی افواج اور متعلقہ اداروں کو بھجوایا جاتا تھا تا کہ وہ انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف استعمال کریں تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اور سپاہ پاسداران کے مقابلے میں اپنی پے درپے شکستوں کا ازالہ کرسکیں۔ اس شامی محقق نے کہا: شمالی اٹلانٹک معاہدے (نیٹو) کے رکن ممالک نے بےشمار یورپی کمپنیوں کے توسط سے زہریلی اور ممنوعہ کیمیاوی گیسوں کے لئے ضروری خام مواد صدام کے لئے فراہم کرتے رہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور مغربی جرمنی اعصاب مفلوج کرنےوالی گیسیں جیسے Tabun گیس وغیرہ، کینسر کا سبب بننے والی (Carcinogens) سرسوں گیس (Mustard Gas)، سیرین گیس (Sarin gas) اور بی زیڈ (B-Z)، عراق کو فراہم کرتے رہے تھے اور اس مواد کو ہتھیاروں میں تبدیل کرنے کے لئے جدید ترین مشینری بھی عراق منتقل کرچکے تھے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب، کویت اور اردن سمیت عرب ممالک نے بھی صدام کو مالی وسائل فراہم کئے تا کہ وہ ڈاکٹر الدانوک کی نگرانی میں اپنا کیمیاوی ہتھیاروں کا ذخیرہ مکمل کریں۔ انھوں نے کہا: ایران ـ عراق جنگ کے بعد صدام نے فہد الدانوک کو امریکہ بھجوا دیا اور امریکہ نے اس کو امریکی شہریت سے نوازا تاکہ وہ نظروں سے اوجھل رہے اور اس کو آج بھی واشنگٹن کی حمایت حاصل ہے اور آرام سے زندگی بسر کررہا ہے۔ انھوں نے کہا: جن جن لوگوں نے المثنی کی تنصیبات میں کام کیا ہے کا تعلیم حاصل کی ہے وہ سب انتہاپسند اور شدت پسند تھے اور تکفیری گروپوں کی طرف مائل تھے۔ ان گروپوں کو صدام نے پالا تھا تا کہ ان کے ذریعے بعث پارٹی کے لادینی رجحانات کے سامنے اٹھنے والی کسی بھی مزاحمت کو کچل دے۔ انھوں نے کہا: اسی تمہید سے نتیجہ لیا جاسکتا ہے کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے عراق کے جن علاقوں پر غلبہ پایا وہاں موجود تکفیری تفکرات کے حامی افراد کو اپنے ساتھ ملانے میں اسے کوئی مشکل پیش نہ آئی اور ان کے ذریعے کیمیاوی تحقیقات کے نتائج تک پہنچنا بھی اس کے لئے بہت آسان تھا اور ان تحقیقات کو عملی جامہ پہنانا بھی کوئی مشکل نہ تھا۔ اور پھر سیرین گیس کی تیاری بہت مشکل کام نہیں ہے اور اس کی تیاری کے لئے ایک چھوٹی سے لیبارٹری کافی ہے اور ایک ایسا شخص جو کسی حدتک لیببارٹری میں کیمیاوی مواد کے ساتھ کام کرنے کی مہارت رکھتا ہو۔ شامی محقق نے چند سوال اٹھائے ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہے: 1۔ کیا عراق میں موجود تمام کیمیاوی تنصیبات تباہ کی جاسکی ہیں اور کیا تمام کیمیاوی ہتھیار تلف کئے جاسکے ہیں؟2۔ کیا کیمیاوی مواد کا ایک بڑا حصہ ابھی تک عراق میں باقی ہے؟3۔ یہ تنصیبات اور ہتھیار کہاں ہیں اور کن لوگوں کے کنٹرول میں ہیں؟ 4۔ کیا اس مواد اور ہتھیاروں کو چوری کرکے شام میں دہشت گردوں تک نہیں پہنچایا جاسکتا؟ اس شامی محقق نے کہا: سیرین گیس آج تک عراق میں موجود ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ القاعدہ نیٹ ورک کے بعض ذیلی گروپوں نے صدام کا تختہ الٹ جانے کے بعد بغداد کے شمال میں "التاجی" کے علاقے میں یہ گیس امریکی فوجیوں کے خلاف استعمال کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ التاجی کا علاقہ اور اس کے اطراف میں ایک جھیل پر "دولۃ الاسلامیۃ في العراق والشام (داعش)" کے کنٹرول میں ہے جنہھوں نے التاجی اور ابوغریب جیل پر حملہ بھی کیا اور اس حملے کا محرک یہ تھا کہ وہ ان جیلوں میں صدام کے زمانے کے کیمیاوی ہتھیاروں کے ایک ماہر کو رہا کروانا تھا۔ یہ شخص القاعدہ سے جاملا تھا اور امریکیوں نے اس کو گرفتار کیا تھا اور امریکیوں نے عراق سے اپنی افواج کے انخلاء کے وقت اس کو عراقی حکومت کے سپرد کیا تھا اور داعش یا القاعدہ کے حملے میں اس کو رہا کروایا گیا۔شامی محقق نے مزید کہا: اس مسئلے کی طرف توجہ دینا ضروری ہے کہ دمشق کے نواح میں الغوطۃالشرقیہ کے علاقے میں کیمیاوی حملہ اس وقت ہوا جب اس ماہر کیمیاوی ہتھیار نے کیمیاوی ہتھیار شام منتقل کئے اور اس مسئلے سے معلوم ہوتا ہے کہ مواد مسلح دہشت گردوں کے پاس موجود ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ جو بات اس فرضئے کو تقویت پہنچاتی ہے وہ، وہ رپورٹیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس علاقے میں استعمال ہونے والا مواد دستی طور پر کسی گھر میں تیار کیا گیا تھا اور فوج کے پاس اس قسم کا مواد موجود نہیں ہے۔ اور پھر ہم ویڈیو کلپس میں ایسے افراد کو دیکھتے ہیں جو ماسک پہنے بغیر کیمیاوی ہتھیاروں کا شکار ہونے والے افراد کے ارد گرد گھومتے ہيں اور دستانے پہنے بغیر جاں بحق ہونے والے افراد کی میتوں کو چھو رہے ہیں اور کیمیکل مواد ان تک سرایت نہیں کررہا! انھوں نے کہا: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ استعمال ہونے والا کیمیاوی مواد ہلکا تھا اور ایک چھوٹی اور گھریلو لیبارٹری میں تیار ہوا تھا اور اس کی شام منتقلی بھی آسان تھی۔ انھوں نے کہا: بغداد کے باب المعظم میں واقع "براء ٹرانسپورٹ کمپنی" کے مالک جاسم کعود (جس نے امریکیوں کو بھی کئی کیمیاوی اڈوں کا پتہ دیا تھا) کو حال ہی میں سات دن کے لئے عراقی فورسز نے زیر تفتیش رکھا تو اس نے واضح طور پر کہا کہ شام میں استعمال ہونے والی سیرین گیس وہی ہے جو عراق میں تیار کی گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
10 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 471330
ایک شامی سیاسی تجزیہ نگار نے فاش کیا ہے کہ اعصاب کو مفلوج کرنے والے سیرین گیس ـ جس کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے معائنہ کار تحقیق کررہے ہیں ـ عراقی تکفیریوں سے وابستہ ایک ٹیم نے استعمال کی ہے۔