ابنا: اسرائیلی آرمی چیف جنرل بینی گانٹز نے کہا ہے مشرق وسطٰی میں جاری کشیدگی اور انقلابات کے دوران اسرائیل کے خلاف جنگ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ فسادات اسرائیل کو کسی بڑی جنگ میں دھکیل سکتے ہیں۔ چیلنجز قبول کرنے کیلئے تیار ہیں۔ مشرق وسطٰی میں جاری فسادات اسرائیل کو کسی بڑی جنگ میں دھکیل سکتے ہیں۔ جنگی خطرات کے پیش نظر منصوبہ بندی شروع کر دی ہے، بڑے بڑے چیلنجز قبول کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقبوضہ فلسطین میں قائم بار ایلن یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور انقلابات کے دوران اسرائیل کے خلاف جنگ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، جنرل بینی گانٹز نے کہا کہ خطہ انقلابات کا آتش فشاں بن چکا ہے اور کسی بھی وقت اس آتش فشانی کا سلسلہ اسرائیل کے خلاف بھی اٹھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں اسرائیل کے خلاف جنگ ٹینک اور توپ سے لڑی جائے، جدید دور میں جنگ کے طریقے بھی بدل گئے ہیں، دشمن جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے ہمارے بینکنگ سسٹم، بجلی کی سپلائی کے نظام اور ملٹری نیٹ ورک جیسے حساس شعبوں کو ہائی جیک کرسکتا ہے، اگر ایسا ہوا تو یہ سنگین مسئلہ ہوگا لیکن ہم اس میدان میں بھی خاموش تماشائی نہیں ہیں، ہم ہرقسم کے حالات کے پس منظر میں تیاری کر رہے ہیں۔
.......
/169