ابنا: عالمی اومور کے تجزیہ نگار آغا مسعود حسین نے کہا کہ شام کے خلاف بے بنیاد الزامات کو ٹھوس ثبوت کے طور پر پیش کر کے ایک پر امن ملک کو جنگ کے دھانے پر لا کھڑا کیا لیکن اسرائیل کے پاس 300سے 600 تک وار ھیڈز کی موجودگی کے باوجود امریکہ اوراقوام متحدہ نے اسرائیل کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی بلکہ عالمی برادری نے توڈرامائی خاموشی اختیار کر رکھی ہے اوراپنی تمام تر توجہ اسلامی ممالک خاص طورپراسلامی جمہوریہ ایران کے پرامن جوہری پروگرام پر مرکوز کر رکھی ہے۔ حالانکہ اسلامی جمہوریہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن نوعیت اور پرامن مقاصد کیلئے توانائی کے حصول کی خاطر ہے ۔آغا مسعود حسین نے کہا کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ وہ خطے کے ممالک خاص طور پر اپنے ہمسایہ ممالک کو ایسی بدامنی اور عدم استحکام کا شکار کر دے کہ وہ اس کیلئے کسی پریشانی یا خطرے کا باعث نہ بن سکیں۔اوراس کا واضح نمونہ شام اور عراق میں جاری شدت پسندی اور دہشت گردانہ اقدامات ہیں اوراسرائیل ان اقدامات کے ذریعے شام کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا چاہتا ہے اور عراق کی خودمختاری کو ختم کرنے کے درپے ہے۔
.......
/169