ابنا: معروف سیاسی مبصر مارک گلن نے پریس ٹی وی سے گفتگو میں امریکہ پر صیہونیوں کے تسلط کے بارے میں رہبر معظم ہنقلاب اسلامی کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسوں پر صہیونیوں کا کنٹرول ہے اور جہاں بھی ان کے مفادات ہوتے ہیں وہ امریکی قوم کے مفادات کی بھی کوئي پرواہ کئے بغیر اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہیں۔ اس مبصر نے ایران اور امریکہ کے تعلقات کے بارے میں بھی کہا کہ صہیونی، امریکی حکام کی پالیسیوں کے خدوخال وضع کرتے ہیں جبکہ امریکہ اور ایران دونوں ملکوں کو چاہیئے کہ کی جانے والی خلاف ورزیوں کی پرواہ کئے بغیر اپنے مفادات کے دائرے میں مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔مارک گلن نے پریس ٹی وی سے گفتگو میں مزید کہا کہ اس وقت امریکہ دو راہے پر کھڑا ہے اسلئے کہ اسے ایران اور اسرائیل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے تاہم وہ اگر امریکی قوم کے مفادات کے درپے ہے تو اسے چاہیئے کہ صیہونیوں کے دباؤ کی پرواہ کئے بغیر اپنی قوم کے مفادات پر توجہ دے۔ اس مبصر نے ایران کے سلسلے میں امریکہ کی خفیہ سرگرمیوں اور عدم صاقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی صورت میں بھی ایران کو چاہیئے کہ عالمی رائے عامہ کو سفارتی طریقوں سے اپنے مواقف سے آگاہ کرے۔ مارک گلن نے صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے مواقف کو علاقے میں امن کے منافی قرار دیا اور کہا کہ نیتن یاہو کی اس انتہا پسندی کو دنیا کے بیشتر ملکوں کے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
.......
/169