1 اکتوبر 2013 - 20:30
ملائیشیا میں شیعہ تعلیمات پر پابندی لگنا چاہیے/ ایران کے شیعہ ہمیں اذیت دیتے ہیں

ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم ماہاتیر محمد نے انتہائی تعجب خیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملائیشیا میں شیعت کی تعلیم پر پابندی عائد کی جانا چاہیے۔ ماہاتیر محمد کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اس ملک میں مکتب اہلبیت (ع) کے پھیلنے سے خوفزدہ ہیں۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ملائیشیا میں شیعہ مخالف کاروائیاں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس ملک کے سابق وزیر اعظم نے انتہائی تعجب خیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملائیشیا میں شیعت کی تعلیم پر پابندی عائد کی جانا چاہیے۔ ماہاتیر محمد کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اس ملک میں مکتب اہلبیت (ع) کے پھیلنے سے خوفزدہ ہیں۔ملائیشیا کے سابق وزیر ماہاتیر محمد جو اس وقت عالمی امن فاؤنڈیشن Pradana کے صدر ہیں نے اس ملک میں مکتب تشیع کی تعلیمات کو مسلمانوں کے اندر اختلاف کا سبب قرار دیا اور اس بات کا دعویٰ کیا کہ یہ چیز سماج کے بکھرنے کا باعث بنے گی !!!انہوں نے نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہ: ملک میں شیعہ اور سنی تعلیمات کا الگ الگ پایا جانا مسلمانوں کے درمیان دشمنی ایجاد کرتا ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے ملک میں ایسا ہو۔ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نے کہا: میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ شیعہ مذہب غلط ہے یا سنی مذہب صحیح ہے۔ مذہبی تفسیریں اس قدر مختلف نہیں ہونا چاہئیں کہ خونریزی اور فساد کا باعث بنیں۔ماہاتیر محمد نے ملائیشیا میں سنی تعلیمات کو سعادتمندی کا سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب شیعہ تعلیمات بعض جگہوں پر رواج پیدا کر رہی ہیں جو پریشانی کا باعث ہے۔عالمی امن فاؤنڈیشن Pradana کے صدر نے ملائیشیا میں شیعت کی تعلیمات کو جنگ و نزاع کی چنگاری کا عنوان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ممکن ہے بات یہاں تک پہنچ جائے کہ شیعہ اپنی مساجد الگ بنائیں اور سنی الگ بنائیں جو اس ملک میں شیعہ سنی نزاع کا موجب بنے۔ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نے ان ایرانی شیعوں کی طرف جو ملائیشیا رفت و آمد رکھتے ہیں اشارہ کرتے ہوئے کہا: اگر ایرانی ایران میں مذہب تشیع کے پابند ہیں تو ہمیں ان پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اگر وہ ہمارے ملک میں آتے ہیں تو برائے مہربانی ہمیں اذیت نہ کریں!یقینا ملائیشیا کے اس ذمہ دار شخص کے اس قسم کے بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ملائیشیا کے لوگوں کے شیعت کی طرف مائل ہونے اور اس ملک میں شیعت کے کثرت سے پھیل جانے سے سخت خوفزدہ ہیں۔ایسی باتیں اگر ملائیشیا کا کوئی دوسرا عہدہ دار کرتا تو اس پر تعجب نہ ہوتا لیکن ماہاتیر محمد جو عالمی امن فاونڈیشن کے صدر ہیں کے منہ سے اس طرح کی باتیں قابل تعجب ہیں چونکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ تعلیمات تشیع نے کبھی بھی کسی جگہ فتنہ و فساد کی آگ نہیں لگائی ہے مکتب اہلبیت(ع) کی تعلیمات تو امن و شانتی اور انسان دوستی کا پیغام دیتی ہیں جبکہ مسلمانوں کے دیگر فرقے خاص طور پر وہابیت قتل و غارت، فتنہ و فساد اور مسلمان کشی جیسے کارنامے انجام دینے میں سر فہرست ہیں۔اگر ماہاتیر محمد کے  پاس کہنے کے لیے کوئی منطقی بات ہے تو وہ دلیل سے ثابت کریں  اور بتائیں کہ کہاں تعلیمات تشیع نے نفرت کا بیج بویا ہے اور کہاں ایرانی شیعوں نے انہیں اذیت و آزار دی ہے؟ آج کے دور میں کوئی کسی پر اس حوالے سے پابندی نہیں عائد کر سکتا کہ وہ کس مذہب کا پابند رہے۔ حقیقت طلب جوان جو اسلام ناب کے متلاشی ہیں وہ خود بخود راہ حق کی طرف کھچے چلے آئیں گے اور کوئی انہیں روک نہیں سکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲