1 اکتوبر 2013 - 20:30
ایران اور امریکہ کےدرمیان فضا تاریک ہے/ امریکیوں نے پانچ بار ملاقات کی درخواست بھجوائی

صدر اسلامی جمہوریہ ایران حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حسن روحانی نے آج کابینہ کے اجلاس کے بعد نامہ نگاروں کے ایک گروپ سے بات چیت کی اور اپنی تقریب حلف برداری میں 55 ممالک کے وفود ـ جن میں سے 11 وفود صدور کی سرکردگی میں اور باقی وزراء اور پارلیمانوں کے اسپیکروں کی کی سربراہی میں ایران آئے تھے ـ کی شرکت کی طرف اشراہ کرتے ہوئے کہا: ان وفود کے ساتھ رابطہ اور مذاکرہ در حقیقت اس حکومت کی بیرونی سفارتکاری کا آغاز اور بین الاقوامی سطح پر بہت مؤثر تھا۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں اپنی شرکت کو دنیا کے ساتھ تعمیری تعامل کے سلسلے میں نئی حکومت کا دوسرا اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا: شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں ہماری کئی صدور مملکت اور متعدد وزائے خارجہ سے ملاقاتیں ہوئیں۔ خاص طور پر ہم نے روس اور چین کے صدور کے ساتھ بات چیت کی جو بہت اہم تھی۔ ان دو صدور کے ساتھ ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بات چیت ہوئی اور چین کے صدور کے ساتھ ہمارے رابطے مسلسل جاری رہیں گے اور میرے نمائندے ان دو صدور کے نمائندوں کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔ صدر روحانی نے کہا: دنیا کے ساتھ تعمیری تعامل کے حوالے سے تیسرا اہم قدم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں میری اور میرے وفد کے اراکین کی شرکت سے عبارت تھا؛ یہ قدم چند مراحل میں انجام پایا اور باقاعدہ سفارتکاری کے میدان میں کئی ملاقاتیں انجام پائیں۔ نیویارک کے دورے کے درمیان اٹھارہ ملاقاتیں انجام پائیں جن میں بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہوں یا اہلکاروں سے ملاقاتیں، مختلف فورموں میں تقاریر، امریکی ذرائع ابلاغ کے سربراہوں کے اجلاس میں شرکت نیز امریکی مسلمانوں کے راہنماؤں کے اجلاس میں شرکت، شامل ہیں۔ ایک اجلاس امریکی خارجہ تعلقات کی کمیٹی اور امریکہ میں مقیم ایشیا سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقد ہوا جس میں 300 مفکرین نے شرکت کی۔ صدر نے کہا: میں نے اس دورے میں جوہری موضوع، ایرانی قوم کی مظلومیت، غیر انسانی پابندیوں وغیرہ کے سلسلے میں ایرانی عوام کے حقوق پر زور دیا اور خصوصی و عمومی اجلاسوں میں بھی اس موضوع کو واضح کیا اور میرا خیال ہے کہ ایران وفد اس سلسلے میں کامیاب تھا۔ انھوں نے کہا: بہت سے ممالک کے حکام نے ایرانی وفد کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کیا اور ان سب کا خیال تھا کہ ایران پر لگائی گئی پابندیاں غیرمفید ہیں اور بعض نے تو یہاں تک کہ کہ یہ پابندیاں غیرمنصفانہ ہیں؛ بعض نے ہماری اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ یہ پابندیاں غیر انسانی ہیں چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ عالمی حالات کا تقاضا ہے کہ ایران کے خلاف پابندیوں کو ختم کیا جائے۔  صدر نے ایرانی قوم کے حقوق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: اگلے قدم کے طور پر ملت ایران کے خلاف لگائی گئی ناحق پابندیوں کو اٹھانا چاہئے۔ اور اس حوالے سے زیادہ اقدامات عمل میں لانا چاہئے اور ہم اگلے مراحل میں ان پابندیوں کو اٹھا سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس حوالے سے بڑے قدم اٹھائے گئے ہیں۔ اور وہ یوں کہ 1 + 5 کے کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہوا اور 1 + 5 کے تمام وزرائے خارجہ نے ایران کے جوہری حق کو تسلیم کیا۔ چنانچہ ہم نے قدم آگے بڑھایا دوسرا قدم یہ تھا کہ طے پایا کہ اگلے اجلاس میں ان موضوعات پر بحث ہوگی اور طے پائے گا کہ اگلا قدم اٹھانے کی کیفیت کیا ہونی چاہئے۔ اتفاق ہوا کہ اگلا اجلاس جنیوا میں ہوگا۔ انھوں نے کہا: دوسرا بڑا اور اہم مسئلہ یہ تھا کہ علاقے میں نئی جنگ کا سد باب کیا جائے۔ مسلمانوں کی جانوں اور ان کے خون اور اور ان کے حق حیات اور علاقے کا استحکام ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ میں نے مختلف ملاقاتوں اور تقاریر میں علاقے کے امن و سلامتی پر زور دیا اور شام کے مسئلے پر بات چیت کی۔ دوطرفہ ملاقاتوں میں شام کے مسئلے کو زیر بحث لایا گیا۔ انھوں نے کہا: ہم اس حوالے سے بھی کامیاب رہے کیونکہ مذاکرات میں ہمارے فریقوں نے اعتراف کیا کہ نئی جنگ علاقے اور دنیا کے مفاد میں نہيں ہے۔ یورپی حکام سمیت جس جس سے بھی میری بات چیت ہوئی سب یک زبان کہہ رہے تھے کہ شام کے مسئلے کا کوئی فوجی راہ حل نہیں ہے اور سب تسلیم کررہے تھے کہ آخرکار شام کے مسئلے میں ہمیں عوامی رائے کا سہارا لینا پڑے گا اور کسی بھی بیرونی حکومت یا حکمران کو شام کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہيں ہے۔ حتی امریکی وزیر خارجہ نے ہمارے وزیر خارجہ کے سامنے کہا کہ امریکہ کو یہ حق حاصل نہيں ہے کہ وہ شام کے مستقبل اور حکومت کے بارے میں فیصلہ کرے اور یہ اختیار صرف اور صرف شامی عوام کو حاصل ہے۔ صدر روحانی نے مزید کہا: ہماری کوشش تھی کہ جو ماحول اسرائیلی امریکہ میں بناتے ہیں اور جھوٹ بول کر گذشتہ برسوں میں اور میرے دورہ نیویارک سے پہلے، دورے کے دوران اور دورے کے بعد، انھوں نے جھوٹ کے ذریعے جو ماحول بنایا تھا، اس کو تبدیل کریں اور جب نیتن یاہو نیویارک جارہا تھا تو ہم نے چاہا کہ اس کے لئے حالات کو دشوار کردیں اور امریکی رائے عامہ کو ان مسائل کی طرف متوجہ کریں جو اسرائیل بیان کرتا ہے لیکن ان کا حقیقت سے کوئي واسطہ نہيں ہے۔ گوکہ اسرائیلی لابی امریکہ میں بہت طاقتور ہے وہ کانگریس میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں؛ انھوں نے وہاں بہت کام کیا ہے اور اب ہمیں امریکہ میں ایرانی لابی کی جگہ پر کرنی پڑے گی۔ انھوں نے کہا: ہمیں کوشش کرنی پڑے گی کہ ایران کے موقف اور افکار کو امریکی عوام تک پہنچائیں اور میں سوچ رہا ہوں کہ امریکہ میں مقیم ایرانیوں کو اس سلسلے میں پہلا قدم اٹھانا پڑے گا۔ میں نے امریکی ایرانیوں کے ساتھ اپنی ملاقات میں یہ موضوع پیش کیا کیونکہ امریکہ میں مقیم ایرانی ہمارا ریڈیو اور ٹیلی ویژن اور ہماری صدا اور تصویر ہیں اور انہیں ایران کے حقائق امریکیوں تک منتقل کرنے پڑیں گے۔ صدر نے کہا: ایک مسئلہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خطرے کا مسئلہ ہے ۔۔۔ اور جس سے بھی ہم نے بات کی سب نے تسلیم کیا کہ دہشت گردی اور تشدد پسندی ایک خطرہ ہے۔ میں نے تقریر میں کہا کہ دنیا کو شدت پسندی اور انتہاپسندی کا مقابلہ کرنا چاہئے اور میری باتوں کا خیر مقدم کیا گیا اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی میرے ساتھ خصوصی ملاقات میں اس نکتے پر تاکید کی۔ دنیا سمجھ گئی ہے کہ شدت پسندی عالمی استحکام کے لئے اور دہشت گردی عالمی امن کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے اور دنیا تسلیم کرتی ہے کہ اس سلسلے میں ہاتھ میں ہاتھ دے کر انتہاپسندی کا سد باب کرنا چاہئے۔ انھو نے کہا: ہم نے اس نکتے کو آگے بڑھایا کہ ہمارا موقف امن و آشتی، اعتدال پسندی اور عالمی یکجہتی اور پرامن بقائے باہمی ہے؛ ایک نکتہ ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کم کرنے یا تناؤ کی شدت کا سدباب کرنے سے عبارت تھا۔ قبل ازیں میں نے اس حکومت کی پالیسیوں کے ضمن میں بیان کیا تھا کہ ہم امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ تناؤ میں شدت لانے کے حامی نہيں ہیں اور اگر ممکن ہو تو ہماری کوشش ہوگی کہ اس تناؤ کو کم کردیں؛ امریکی حکام کی مسلسل کوشش تھی کہ دو صدور کے درمیان ملاقات ہو اور اس سے قبل کہ میں امریکہ جانے کے لئے ایران سے روانہ ہوجاؤں اور دورے سے چند روز قبل مجھے ان کا پیغام موصول ہوا جس کا تعلق جمعہ سے تھا جبکہ میں پیر کے دن اس دورے پر گیا۔ ان کا دوسرا بھی اسی جمعے کو ملا اور ہفتے اور اتوار کے دن بھی مجموعی طور پر امریکیوں نے پانچ پیغامات بھجوائے اور ہم نے ان پیغامات کا کوئی جواب نہيں دیا تھا اور میں نے وزارت خارجہ کے رفقاء سے کہا کہ نیویارک پہنچ کر اس سلسلے میں فیصلہ کروں گا اور جس رات ہم نیویارک پہنچے مزيد پیغامات موصول ہوئے اور بات چیت ہوئی اور آخر کار ملاقات انجام نہ پاسکی۔ کیونکہ تمام مسائلی کے سلسلے میں تفصیلات پر بحث کرنے کی فرصت نہ تھی۔ ڈاکٹر روحانی نے کہا: بات یہ ہوئی کہ میرے اور امریکی صدر کے درمیان چند منٹوں کی ملاقات جنرل اسمبلی کے گلیاروں میں ہو یا کسی اجلاس کے موقع پر ـ جہاں میں اور امریکی صدر شرکت کررہے ہوں ـ یہ ملاقات انجام پائے لیکن میں اس قسم کی ملاقات سے متفق نہ تھا بہرحال ملاقات نہ ہوئی۔ البتہ یہ بحث فریقین کے درمیان چلتی رہی اور منگل کے روز امریکی ذرائع ابلاغ میں ایک فضا بنی کہ ایران نے اس دور میں امریکہ کی تذلیل کی ہے۔ بعض اخبارات نے سرخی لگائی کہ روحانی نے امریکہ کی درخواست مسترد کی ہے، یا یہ کہ وائٹ ہاؤس کی تذلیل ہوئی، وغیرہ اور میں ذرائع اور جرائد و اخبارات کے اس رد عمل پر ـ جو کسی حد تک فطری تھا اور بڑی حد تک اسرائیلیوں نے اس کو ہوا دی تھی ـ زیادہ خوش نہیں تھا اور میں نے انٹرویوز میں کہا کہ بنیادی طور پر تذلیل کا مسئلہ نہیں ہے؛ ملاقات کی ایک درخواست تھی اور ہم بھی ملاقات کے خلاف نہيں تھے لیکن اس ملاقات کے لئے مناسب ماحول فراہم نہیں تھا اور حالات بھی اس کے لئے سازگار نہيں تھے۔ کیونکہ یہ بہت اہم ملاقات تھی اور ان 35 سالوں میں پہلی بار دو صدور مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہتے تھے اور یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ صدر نے کہا: یہ صورت حال تھی اور فضا کو گرد آلود کیا گیا تھا اور عام طور پر ایسی فضا سے دوسرے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہمارے لئے یہ مفید نہیں ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اگر اس مسئلے کا کسی شکل میں بھی ازالہ کیا جائے تو میری طرف سے کوئی ممانعت نہ ہوگی۔ انھوں نے کہا: البتہ 1 + 5 کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایران اور امریکہ کے وزرا‏ئے خارجہ کی ملاقات ہوئی اور رابطے برقرار تھے۔ طے یہ پایا تھا کہ جمعہ کے دن ـ جب میں واپس آنا چاہتا تھا ـ اوباما فون پر رابطہ کریں گے تاہم یہ رابطہ آخری منٹوں میں انجام پایا اور انھوں نے فون کیا (اقوام متحدہ میں) ہمارے سفیر کے موبائل پر اور یہ وہ وقت تھا کہ ہم ہوٹل سے نکلنے اور ہوائی اڈے کی طرف جانے کے لئے تیار تھے اور ہم نے چند منٹ بات چیت کی۔ صدر نے کہا: ایران اور امریکہ کے حوالے سے بہت سے مسائل ہیں اور اس ٹیلی فون رابطے میں بھی نے صدر اوباما سے کہا کہ گذشتہ 35 برسوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان ایک تاریک فضا چلی آرہی ہے اور ہمارے عوام امریکہ کے اعمال کے خلاف ہیں اور ایران اور امریکہ کا مسئلہ ایسا نہیں ہے جو جو قلیل مدت میں حل ہوسکے اور انھوں نے بھی جواب دیا کہ "میں نے بھی یہی کہا ہے کہ یہ مسئلہ ایک شب میں حل نہیں ہوگا اور ہمیں وقت کی ضرورت ہے"؛ ہماری اصل بحث جوہری پروگرام کے بارے میں تھی اور میں نے زور دے کر کہا کہ یہ مسئلہ ایک محدود مدت میں حل ہونا چاہئے اور وہ بھی مان رہے تھے۔ اس ٹیلی فون رابطے پر غیر متعلقہ موضوعات پر بھی بات ہوئی۔  انھوں نے کہا: ہمارے عوام کو جاننا چاہئے کہ ہمارے سامنے خارجہ پالیسی کا راستہ ایک ہموار راستہ نہیں ہے۔۔۔۔ اوباما نے اس ٹیلی فون رابطے میں کہا: ہمیں بھی اپنے ملک کے اندر مسائل کا سامنا ہے اور آپ کو بھی ملک کے اندر مشکلات کا سمانا ہے چنانچہ ہمیں سوچنا پڑے گا کہ کس طرح ان مشکلات سے گذریں۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ امریکی حکام ہر روز ایک خاص لب و لہجے میں بات کرتے ہيں کبھی دباؤ آتا ہے اور ایک دن دباؤ نہیں ہے؛ میرے خیال میں یہ بات اہم نہيں ہے اور اہم بات یہ ہے کہ ہم محسوس کریں کہ وہ جو سوچ رہے تھے کہ ایرانی قوم پابندیوں کی وجہ سے گھٹنے ٹیک دے گا اور اس سے بھی بالاتر یہ کہ پابندیوں کے دباؤ کی وجہ سے لوگ نظام سے الگ ہونکے، وہ ان پرشکوہ انتخابات کے بعد مایوس ہوگئے۔ لوگ اس نظام سے الگ نہيں ہوتے۔ انھوں نے محسوس کیا کہ لوگوں کی سیاسی نشاط ختم نہں ہوتی اور محسوس کیا کہ پابندیاں لگانا درست راہ حل نہيں ہے۔ میں نے یورپین یونین کے سربراہ اور کیتھرین آشتون سے یہ بات کہہ دی کہ آپ اب اس نتیجے پر پہنچے ہ