ابنا: ذرائع کے مطابق، پیر کی صبح ہونے والے اس حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ ڈاکٹر عبد المالک ضلع آواران میں زلزلہ متاثرین کے لیے قائم ایک کیمپ آفس کے دورے کے لیے جا رہے تھے کہ نامعلوم عسکریت پسندوں کی جانب سے ان کے قافلے پر راکٹ داغا گیا تاہم وہ انکی گاڑی سے کچھ دور جا گرا۔ واقعہ کے بعد سیکورٹی فورسز کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ یاد رہے کہ جمعہ کو آواران میں ہی عسکریت پسندوں نے امدادی سامان لے جانے والے دو ہیلی کاپٹروں پر حملہ کیا تھا۔ آواران کو بلوچستان کا سب سے حساس اور تشدد زدہ علاقہ خیال کیا جاتا ہے۔ بلوچستان کے علیحدگی پسند باغی رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔ وزیر اعلٰی پہلے ہی اللہ نذر بلوچ سے اپیل کر چکے ہیں کہ وہ زلزلہ متاثرین کی امداد کرنے والی رضاکار تنظیمیوں کی حمایت کریں۔ ادھر پاکستان آرمی کے ادارے آئی ایس پی آر کے ترجمان ڈی جی سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے حملوں سے امدادی کاروائیوں میں کمی نہیں آئے گی۔
.....
/169