ابنا: صدر رحانی نے نيو يارک ميں اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي ميں ناوابستہ تحريک کي جانب سے منعقدہ جوہري اسلحے کي نابودي کے بارے ميں اجلاس ميں کہا کہ ان ہتھياروں کو بنانے کا جواز پيش کرنے والي کوئي بھي اسٹراٹیجي ناقابل قبول ہے چاہے وہ جارحانہ ہو يا دفاعي۔ صدر حسن روحاني نے پر امن دنيا کے قيام کو سبھي کا مشترکہ ہدف بتاتے ہوئے اس بات پر زور ديا کہ کسي بھي شکل ميں جوہري اسلحے کا استعمال نہ صرف يہ کہ اقوام متحدہ کے منشور کي مخالفت ہے بلکہ انسانيت کے خلاف جرم بھي ہے۔انہون نےايٹمي طاقتوں کي طرف سے غير جوہري ممالک کو دھمکي کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کيا کہ جوہري اسلحے کي جديدکاري بھي ان ہتھياروں کے پوري طرح خاتمے کي کوششوں کي راہ ميں رکاوٹ ہے اس لئے جوہري اسلحے کي جديدکاري رکني چاہيئے ۔ انہوں نے کہا کہ ايٹمي ہتھياروں کے خطروں کو دور کرنے کا راستہ صرف يہ ہے کہ انہيں پوري طرح نابود کر ديا جائے۔
ايران کے صدر نے ناوابستہ تحريک کے صدر کي حيثيت سے ايٹمي ملکوں سے مطالبہ کيا کہ وہ سبھي ايڈيشنل پروٹوکول اور ايٹمي ہتھياروں سے پاک علاقے بنانے سے مربوط سبھي معاہدوں کو تسليم کريں نيز ان علاقوں کي غير ايٹمي حيثيت کا احترام کريں۔ڈاکٹر حسن روحاني نے ايٹمي ملکوں سے سي ٹي بي ٹي سے متعلق سبھي پروٹوکول اور جنوب مشرقي ايشيا کو ايٹمي ہتھياروں سے پاک کرنے کے معاہدوں پر جلد از جلد دستخط کرنے کا مطالبہ کيا۔ ايراني صدر نے اسي طرح اسرائيل سے کسي تاخير کے بغير اين پي ٹي پردستخط کرنے کا مطالبہ کيا تا کہ خطے ميں سبھي ايٹمي سرگرميوں پر آئي اے اي اے نظر رکھ سکے۔ واضح رہے کہ مشرق وسطي ميں اسرائيل ايک واحد حکومت ہے جس نے ان پي ٹے پر دستخط نہيں کئے ہيں۔
.......
/169