اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لیبیا کے اہل سنت کے عالم دین اور اس ملک کے شرفاء کے مشہور راہنما کی دہشت گردانہ حملے میں شہادت کے بعد لیبیا اور مصر کے صوفی راہنماؤں نے اس قتل کے حوالے سے اخوان المسلمین اور سلفی ٹولوں کو مورد الزام ٹہرایا ہے۔ لیبیا کے اہل سنت کے مشہور عالم دین شيخ مصطفی بن رجب المحجوبي الإدريسى لیبیا کے حسنی سادات میں سے تھے جنہیں "درنہ" نامی شہر کے علاقے "الفتائح" میں اپنے گھر کے سامنے مسلح دہشت گردوں نے حملہ کرکے قتل کیا۔ حملہ آور تکفیری ٹولوں سے تعلق رکھتے تھے۔ المحجوبی لیبیا کی مجلس الدعوہ والارشاد کی اعلی شوری کے رکن اور اسلامی تصوف کے راہنما تھے جنہوں نے اپنے بعد متعدد عمدہ علمی، عرفانی اور اخلاقی کاوشیں چھوڑی ہوئی ہیں جن میں اخلاق اور سیر الی اللہ کی ترغیب پر مبنی 1000 ہزار اشعار پر مشتمل کتاب "الفية المحجوبي" اور "مولد نور الانوار النبي المصطفى المختار(ص)" جیسی کتابیں شامل ہیں۔ مصر کی صوفی تنظیموں کی تنظیم کے سربراہ اور تنظیم "تجمع آل البيت الشريف(ع)" کے صدر "ڈاکٹر شریف عبدالہ الناصر حلمی" نے بھی شریف مصطفی المحجوبي الإدريسى کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ادریسی یا وہی "ادارسہ"إدريس بن عبد الله الكامل (ولادت 793 وفات 788 عیسوی) کے فرزند ہیں۔ اور ادریس بن عبداللہ الکامل حضرت حسن المثنی بن الحسن المجتبی بن علی بن ابی طالب (علیہم السلام) کے کی اولاد سے اور حضرت امیرالمؤمنین علي اور سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ(ص) کے فرزند ہیں۔ ان بزرگوں نے شمالی افریقہ میں ادریسی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی اور برسوں تک ان علاقوں پر فرمانروائی کی۔ افریقہ ـ منجملہ مصر، تیونس اور لیبیا ـ کے شرفاء اور صوفیہ فقہی لحاظ سے اہل سنت کے چار مذاہب کے تابع ہیں لیکن محبین اہل بیت(ع) کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں اور مراقد شریفہ کی زیارت کرتے ہیں اور معصومین (علیہم السلام) سے توسل کرتے ہیں اور انہیں وسیلہ قرار دے کر اللہ کی بارگاہ اپنی حاجات کے لئے التحا کرتے ہیں۔واضح رہے کہ لیبیا پر مغرب اور نیٹو نے عرب حکمرانوں کی مدد سے ـ تیل کی دولت سے مالامال اس ملک میں امن و امان قائم کےنے کے بہانے ـ حملہ کیا اور کارپٹ بمباری کرکے اس کی تمام اہم تنصیبات کو نیست و نابود کیا، اس کی مرکزی حکومت کو تباہ کرکے رکھ دیا اور افواج کو کمزور کیا اور آج لیبیا کی حکومت کی عملداری طرابلس یا بن غازی جیسے شہروں تک محدود ہے اور افراتفری کا دور دورہ ہے چنانچہ خودسر دہشت گرد پوری شدت و حدت سے اس ملک میں بدامنی پھیلانے میں مصروف عمل ہیں۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں شيخ مصطفی بن رجب المحجوبي الإدريسى کی شہادت کو بھی اسی صورت حال کے تناظر میں دیکھنا چاہئے کیونکہ جہاں بدامنی اور افراتفری ہوگی دشمنان دین اور اسلام کو بدنام کرنے کے لئے سرگرم عمل دہشت گرد ٹولے فعال ہوجاتے ہیں جن کی مثالیں لیبیا، مصر، شام و عراق اور پاکستان میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
23 ستمبر 2013 - 20:30
News ID: 466260
لیبیا میں ایک دہشت گردانہ حملے میں لیبیائی ادریسی سادات کے ایک عالم دین اور حسنی سید "شيخ مصطفی بن رجب المحجوبي الإدريسى" کو قتل کیا اور لیبیا اور مصر کی صوفی تنظیموں نے اس قتل کا الزام اخوان المسلمین اور سلفیوں پر لگایا ہے۔