23 ستمبر 2013 - 20:30
صدر:سفر کا اہم ترین مقصد ایرانی قوم کی عظمت کا دفاع کرنا - باتصویر

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب ڈاکٹر حسن روحانی نے، جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کیلئے امریکہ کے دورے پر ہیں،نیویارک کے جان اف کنیڈی ایر پورٹ پہنچنے پر کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 68 ویں سالانہ اجلاس سے اپنے خطاب میں ایرانی قوم کی عظمت کا بھرپور دفاع کریں گے۔

ابنا: صدر مملکت جناب ڈاکٹر حسن روحانی نے نیویارک ایر پورٹ پر ہمارے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ان کے اس دورے کا ایک اہم ترین مقصد، ایرانی قوم کی عظمت کا دفاع کرنا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ وہ اپنے چار روزہ دورۂ امریکا میں مختلف ملکوں منجملہ فرانس و آسٹریا و ترکی کے صدور، عراق کے نائب صدر اور اسی طرح چین و اسپین اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے علاوہ امریکہ کے مسلمان رہنماؤں اور اس ملک میں مقیم ایرانیوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے نیویارک روانگي  سے قبل اپنے اس سفر کے اہم ترین پروگراموں کاذکر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اڑسٹھویں اجلاس میں شرکت کا مقصد ، ملت ایران کو ایک مہذب اور متمدن قوم کی حیثیت سے اقوام عالم کو متعارف کرانا بتایا اور کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ کچھ ایسے ہاتھ ملوث تھے  جنہوں نے ایرانی عوام کے تشخص اور چہرے کو بگاڑ کر پیش کرنے کی کو شش کی  جبکہ آج ایران علاقے میں ثبات و استحکام کا مرکز ہے ۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر کل شام کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کریں گے ۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے ساتھ ہی ، ایٹمی ترک اسلحہ  بین الاقوامی اجلاس اور اسی طرح غیر جانبدار تحریک کے اجلاس میں شرکت، صدر ایران کے دورۂ نیویارک کے پروگراموں میں شامل ہے ۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اڑسٹھواں اجلاس عالمی سطح پر اہمیت کا حامل ہونے کے اعتبار سے خبری اور سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنا ہے اس  دائرے میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر کےدورے کو انتہائي حساسیت کے ساتھ دیکھا جارہا ہے ۔ میڈيا کی بھی توجہ ، ایران سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے لئے امریکہ اور یورپی ملکوں کی کوشش پر مرکوز ہے ۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کی ڈپلومیسی اب سیاسی گوشہ نشینی، اورایران کے خلاف عائد پابندیوں کے خاتمے کے سلسلے میں انجام پارہی ہے ۔ فرانس کے صدر فرانسوا اولانڈ منگل کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ضمن میں نیویارک ميں ایران کے صدر  سے ملاقات کریں گے ۔ اولانڈ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اپنے ایرانی ہم منصب سے یہ مطالبہ کریں گے وہ شام کے بحران کے حل کے لئے سیاسی راہ حل تلاش کرنے میں مدد کریں ۔ وائٹ ہاؤس کے نائب ترجمان "جاش ارنسٹ" نے بھی ، اوباما کے ساتھ  نیویارک کے سفر میں نامہ نگاروں کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ ٹیلیفونی رابطہ ،دوطرفہ احترام کی بنیاد پر جاری رہیگا ۔
بعض مبصرین کے نقطۂ نگاہ سے اس سیاسی تبدیلی کی علامات میں ہر لمحہ اضافہ ہورہا ہے ۔ ان مبصرین کے نقطۂ نگاہ سے جو افراد ایران کو شرارت کا محور قرار دے رہے تھے اور امریکی بیڑوں کو ایران پر حملے کے لئے خلیج فارس میں روانہ کررہے تھے اب وہی ایران کی کامیاب سفارتکاری اور اسلامی جمہوری نظام کے مخالف گروہ کے لئے بھاری شکست اور علاقے کی سطح پر بعض حکومتوں کی کوتاہ فکری کی بات کررہے ہیں ۔ اب یہ سیاسی گروہ ، وائٹ ہاؤس کی ہم فکری سے  ایک ٹھوس چیلنج سے دوچار ہوگئے ہیں اور مجبور ہیں کہ علاقے اور دنیا کے حقائق سے سمجھوتہ کریں ۔ صہیونی حکومت  کہ جس نے   گذشتہ چند برسوں میں ایران کے لئے ریڈ لائن کھینچی ہے  آج اسی کو تشویش لاحق ہےکہ مغرب کہ جسے اپنے خود ساختہ بحران سے باہر نکلنے کے لئے ایران کے ساتھ تعاون  کا نیا باب کھولنے کی اشد ضرورت ہے ، ایران کے لئے لال فرش بچھانا نہ پڑ جائے ۔ یہ بھرپور طمانچہ ایسے وقت لگ رہا ہے کہ علاقے کی امریکہ سے وابستہ بعض حکومتوں نے ایران کو کمزور کرنے کے لئے خطیر سرمایہ کاری کی ہے  تاکہ شاید ان کے زعم میں ایران گوشہ نشیں ہوجائے اور علاقے میں ایران کا کردار کمزور پڑجائے لیکن اس وقت یہی ممالک غیر یقینی صورت ميں علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کےدائرے میں ایران کے مرکزی کردار کا مشاہدہ کررہے ہیں اور یہ چیز خود ان ملکوں کے گوشہ نشیں ہونے کے مترادف ہے ۔ ایسی حالت میں ایران اور مغربی ملکوں کے درمیان ہونے والے ہر قسم کے سمجھوتے ان افراد کے نقصان میں ہوں گے جو علاقے میں بحران پیدا کرنے کو اپنی بقا کا ضامن سمجھتے ہيں اور ان کا اس محور سے خارج ہونا انہیں مبہوت کردیگا ۔ 

 

.....

/169