ابنا: ايران کي پارليمنٹ کے اسپيکر ڈاکٹر علي لاريجاني نے ترکي کے اسپيکر سے ملاقات کے بعد تہران ميں نامہ نگاروں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ شام کے بارے ميں ہمارا موقف يہ ہے کہ جمہوري اصلاحات کا نفاذ کرنے کے ساتھ مسئلے کے حل کے لئے سياسي راستہ اپنايا جائے ۔ ڈاکٹر علي لاريجاني نے کہاکہ شام ميں خونريزي جلد سے جلد بند ہوني چاہئے ۔ انہوں نے عراقي پارليمنٹ کے اسپيکر کے حاليہ دورہ تہران کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ شام کے مسئلے کے حل کے تعلق سے ايران ترکي اور عراق کے درميان ايک مشترکہ اتفاق رائے پاياجاتا ہے اور تينوں ہي ممالک اس پرکام کررہے ہيں.
ايران کي پارلمينٹ کے اسپيکر نے کہاکہ ترکي کي پارليمنٹ کے اسپيکر جميل چيچيک سے ہونےوالي بات چيت ميں دونوں ملکوں نے اس بات پر اتقاق کيا ہے کہ علاقے کے اسلامي ملکوں ميں جمہوريت قائم ہوني چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردي کا مقابلہ کرنے کے تعلق سے ايران اور ترکي کا موقف ايک ہے ۔
ترکي کي پارلمينٹ کے اسپيکر جميل چيچک نے بھي کہا کہ علاقے کے ملکوں کي سبھي مشکلات و مسائل پرامن طريقے سے حل ہونے چاہئيں۔ انہوں نے کہا کہ ان مثبت خيالات کے باوجود افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ علاقے ميں حالات انتہائي غيرانساني اور ديني تعليمات کے منافي اقدامات کے ذريعے بحراني ہوتے جارہے ہيں ۔ ترکي کي پارليمنٹ کے اسپيکر جميل چيچک نے کہا کہ شام ميں دہشت گردوں کے اقدامات اسلام اور انسانيت کے خلاف ہيں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اس صورتحال ميں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بيٹھے رہے تو ہم بھي ان جرائم ميں برابر کے شريک ہوں گے ۔
.......
/169