21 ستمبر 2013 - 20:30

مقبوضہ بیت المقدس میں صہیونیوں کی جارحیت اور انسانی حقوق کی پائمالی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اسرائیل کے فوجیوں کی جانب سے مظلوم اور نہتے فلسطینی مسلمانوں کے خلاف ہونے والی انسانیت سوز کاروائیوں کے بعد اب یورپی ممالک کے سفارت کاروں اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غرب اردن میں خانہ بدوشوں کو امدادی سامان کی تقسیم سے روکے جانے پراحتجاج کیا ہے۔

ابنا: مقبوضہ بیت المقدس میں صہیونیوں کی جارحیت اور انسانی حقوق کی پائمالی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اسرائیل کے فوجیوں کی جانب سے مظلوم اور نہتے فلسطینی مسلمانوں کے خلاف ہونے والی انسانیت سوز کاروائیوں کے بعد اب یورپی ممالک کے سفارت کاروں اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غرب اردن میں خانہ بدوشوں کو امدادی سامان کی تقسیم سے روکے جانے پراحتجاج کیا ہے۔   قافلے میں موجود خاتون فرانسیسی سفارت کار کو اسرائیلی فوجیوں نے گاڑی سے  گھسیٹتے ہوئے زبردستی نیچے اتارلیا اور زد وکوب کیا ۔ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ جیسے ہی وہ علاقے میں پہنچے تو ایک درجن کے قریب اسرائیلی فوج کی گاڑیوں نے انھیں گھیر لیا اور حکم دیا کہ امدادی سامان ٹرکوں سے نیچے نہ اتارا جائے۔ مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانے کے ایک ترجمان کے مطابق یہ خبر قابل تشویش ہے کہ اسرائیلی فوج نے متاثرہ عوام کی امداد کے کے لئے لے جائے جانے والے سامان پر قبضہ کر لیا۔
 واضح رہے کہ اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس سمیت غربِ اردن پر 1967ء سے قبضہ کیا ہوا ہے اور وہاں 100 کے قریب بستیوں میں5 لاکھ یہودی آباد ہیں، یہ بستیاں عالمی قانون کے تحت غیرقانونی ہیں لیکن اسرائیل اس سے اتفاق نہیں کرتا۔

.......

/169