16 ستمبر 2013 - 19:30
شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق

اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ 21 اگست کو شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں ایک حملے میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا تھا۔تاہم اس رپورٹ میں کسی فریق پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عائد نہیں گیا ہے۔

ابنا: پیر کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی معائنہ کاروں کی اس رپورٹ پر بریفنگ دی۔ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ 21 اگست کو دمشق میں بڑے پیمانے پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے۔ اس حملے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں جن میں سے بیشتر شہری تھے۔‘بان کی مون نے یہ بھی بتایا کہ معائنہ کاروں نے خون کے جن نمونوں کا تجزیہ کیا ان میں سے 85 فیصد میں سارن گیس کے اثرات پائے گئے۔اقوام متحدہ  کے سیکرٹری جنرل نے کہا تھا کہ ان تجزیوں کی بنیاد پر مشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ’واضح اور قابل یقین ثبوت ہیں کہ سطح سے سطح پر مار کرنے والے اعصاب شکن گیس سارن سے بھرے راکٹ دمشق کے علاقے غوطا میں استعمال ہوئے۔‘مون نے اس واقعہ کو 1988 میں عراق کے شہر حلبچہ پر صدام کی جانب سے شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے بعد اس قسم کے ہتھیاروں کے استعمال کا سب سے اہم واقعہ قرار دیا۔در ایں اثناء اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد سے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی کوشش ہے کہ کسی طرح اس حملے کے لیے شامی حکومت کو ذمہ دار ٹہرا دیا جائے، اس کے لیے امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے وسیع پیمانے پر لابنگ شروع کردی ہے۔اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے ویٹالی چرکن نے رپورٹ شائع ہونے کے بعد شام کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی کوششوں کے رد عمل میں کہا کہ میرے خیال میں کچھ ساتھی ضرورت سے زیادہ جلدبازی میں نتائج اخذ کر رہے ہیں، ان کا یہ کہنا کہ رپورٹ سے یہ حتمی نتایج اخذ کیے جا سکتے ہیں کہ حکومتی افواج نے ہی کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں بے بنیاد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’شام میں عسکری پسند گروہوں کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام کو آسانی سے رد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر یہ حکومتی حملہ تھا تو اس کے شکار افراد میں کوئی باغی جنگجو کیوں نہیں ہے۔......./169