ابنا: واضح ہو کہ واشنگٹن ڈی سی کے جنوب مشرق میں واقع یو ایس نیوی سسٹمز کمانڈ ہیڈ کوارٹرز میں پیر کی صبح مقامی وقت کے مطابق آٹھ بج کر بیس منٹ پر فائرنگ کا یہ واقعہ پیش آیا۔فائرنگ کے اس واقعہ میں بارہ افراد کی ہلاکت کے علاوہ دیگر ایک درجن افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔امریکی صدر براک اوباما نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ان ہلاکتوں پر وائٹ ہاؤس اور کیپیٹل ہل پر امریکی پرچم سرنگوں کرنے کا حکم دیا ہے۔امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ 34 سالہ الیکسز کا تعلق امریکی ریاست ٹیکساس کے علاقے فورٹ ورتھ سے تھا۔تا حال اس حملے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ حملہ آور الیکسز نے 2007 سے 2011 کے دوران بحریہ کے ریزرو دستوں میں بطور پیٹی افسر تھرڈ کلاس خدمات سرانجام دی تھیں۔یہ واضح نہیں کہ اس نے بحریہ کیوں چھوڑی تاہم امریکی بحریہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ بحریہ میں خدمات کے دوران اسے متعدد بار امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا تھا۔امریکی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق الیکسز نے بودھ مذہب اختیار کر لیا تھا۔واقعے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ الیکسز نے اس سخت نگرانی والے اڈے کی ایک راہداری اور کیفے ٹیریا میں موجود افراد پر گولیاں برسائیں۔ابتدائی طور پر پولیس نے بتایا تھا کہ وہ دو ممکنہ حملہ آوروں کی تلاش میں ہے تاہم بعد میں کہا گیا کہ دو مشتبہ افراد میں سے ایک شک کے دائرے سے باہر ہے۔امریکی نیوی کے مطابق واشنگٹن نیوی یارڈ امریکی بحریہ کا سب سے پرانا ساحلی ٹھکانا ہے اور اسے پہلی بار 19 ویں صدی میں کھولا گیا تھا۔ اس یارڈ میں تقریباً تین ہزار افراد کام کرتے ہیں۔......./169
16 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 463844
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت واشنگٹن میں بحریہ کے ایک اڈے پر مبینہ فائرنگ کے واقعہ میں ہلاک ہونے والے تیرہ افراد میں سے ایک حملہ آور بحریہ کا سابق ملازم ایرن الیکسز ہے۔